Home / Pakistan / پاکستان کے میزائلوں نے کن کن وقتوں میں پاکستان کو بچایا

پاکستان کے میزائلوں نے کن کن وقتوں میں پاکستان کو بچایا

جب تک ہمارے اسلحہ خانے میں ایٹم بم موجود ہے تو پاکستان کو بھارت سے امن کی بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں ۔!
پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے قیام کا مروڑ بہت سے لوگوں کے پیٹ میں اٹھ رہا ہے،خاطر جمع رکھیں جب سے پاکستان نے بھارت کے جواب میں ایٹم بم بنا لیا ہے، بر صغیر میں قیام امن کی ضمانت مل چکی ہے۔

اندراگاندھی نے سقوط ڈھاکہ کے بعد برملا کہا تھا کہ دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں غرق کر دیا گیا، مگر جونہی بنگلہ دیش سے بھارتی فوج رخصت ہوئی تو پتہ چلا کہ ہندو انڈیا کے پہلو میں ایک اور مسلم اکثریتی مملکت وجود میں آگئی ہے۔جنرل ضیاالحق کے دور میں بھارت نے عیاری کا مظاہرہ کیا اور براس ٹیک کے نام سے فوجی مشقیں شروع کر دیں۔دنیا میں آج تک کوئی فوجی مشق لائیو اسلحے کی مدد سے نہیں کی جاتی، اسی لئے پاکستان کو شک گزرا کہ بھارت شرارت پر آمادہ ہے اور مشقوں کی آڑ میں جارحانہ حملہ کرنے والا ہے، آج نئی نسل کو ان حالات کا صحیح اندازہ نہیں ہو گا۔

فوجی مشق کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ دشمن کے ٹارگٹ کے نام فرضی ہوتے ہیں لیکن بھارت نے ان مشقوں میں پاکستان کے شہروں کے اصل نام استعمال کئے جس کی وجہ سے اس کے عزائم کھل کر سامنے آگئے، اس موقع پر پاکستان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ بھی اپنی فوج کو چھاﺅنیوں سے نکال کر دفاعی مورچوں میں بٹھا دے۔اس طرح دونوں ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سامنے آ گئیں ،-

جنگ اور امن میں صرف ایک ٹریگر دبانے کی کسر ہے اور پھر یہ خطہ تباہی کی لپیٹ میں آجائے گا۔ جنرل ضیا الحق نے اس موقع پر اپنا جہاز پکڑا اور بھارت میں پاک انڈیا کرکٹ میچ دیکھنے چلے گئے۔ بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کو بھی بادل نخواستہ پروٹوکول کی مجبوریوں کی وجہ سے وہاں آنا پڑا۔

یہ 1987 کا واقعہ ہے اور جے پور کا اسٹیڈیم ، جہاں جنرل ضیا اور راجیو گاندھی پہلو بہ پہلو براجمان تھے،گراﺅنڈ پر پاکستانی کھلاڑی اپنی دھاک بٹھا رہے تھے، اسی ماحول میں جنرل ضیا نے راجیو کے کانوں میں کھسر پھسر کے انداز میں کہا، مہاراج!سرحد پر کوئی شرارت نہ کر بیٹھنا، پاکستان ایٹم بم بنا چکا ہے اور پھر اگلے چند دنوں میں بھارتی افواج واپس چھاﺅنیوں کو روانہ ہو گئیں، ایک یقینی جنگ ٹل گئی تھی۔ نوائے وقت بھی شہہ سرخی میں یہ انکشاف کر چکا تھا کہ پاکستان ایٹم بنانے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔

دو ہزار دو میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا، بھارت پھنکارتے ہوئے پاکستانی سرحدوں کی طرف بڑھا، پاکستان نے ترکی بہ ترکی اپنی افوج کو سرحدی مورچوں میں بٹھا دیا لیکن اس بار ایک نئی بات دیکھنے میں آئی، سرحد کے عین اوپر پاکستان نے اپنے میزائل نصب کر دیئے تھے جن پر ایٹمی ٹوپیاں چڑھا دی گئی تھیں۔

دنیا میں کوئی فوج اپنے میزائل سرحد کے قریب لے جانے کا خطرہ مول نہیں لیتی لیکن پاکستان ان میزائلوں کی مار کی آخری حد بھی حاصل کرنا چاہتا تھا ،تا کہ کوئی میزائل اپنے نشانے سے چند انچ بھی ادھر ادھرگرکر  ضائع نہ ہو۔اس سے ساری دنیا میں خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھیں۔برصغیر کی ڈیڑھ ارب کی آبادی کو ایٹمی تباہی سے بچانے کے لئے تیز رفتارسفارتی کوششوں کا آغاز ہوا۔اور ایک بار پھر امن قائم ہو گیا۔یہی کچھ ممبئی سانحے کے بعد ہوا ۔

بھارت نے تلملا کر پاکستان سے بدلہ لینے کی ٹھانی، اس کا خیال تھا کہ جس طرح امریکہ کو دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جارحانہ یلغار کا حق حاصل ہے، اسی طرح بھارت کو بھی منی سپر پاور ہونے کے ناطے یہ حق حاصل ہے، اس نے سرجیکل اسٹرائیک کے لئے اپنے بمبار فضا میں بلند کر دیئے، پاکستان نے چوڑیاں نہیں پہن رکھی تھیں، اس کے ہوابازوں نے بھی فضائی حدود کے دفاع کے لئے اڑان بھری۔ ہر ایک کو معلوم تھا کہ بر صغیر میں تصادم نا گزیر ہے اور یہ تصادم ایٹمی تباہی پر منتج ہو سکتا ہے۔ مگر بھارتی سورما دم دبا کر بھاگ گئے۔اور امن کو لاحق خطرات ٹل گئے۔

پھر کہا کارگل کی تحقیقات کریں گے۔ ضرور کرائی جائیں۔ان تحقیقات سے یہی ثابت ہو گا کہ متنازعہ علاقے میں ہونے والا تصادم بین الاقوامی سرحدوں تک صرف اسی لئے نہیں پھیلا کہ پاکستان اس بار ایٹمی اسلحے سے لیس تھا۔

جبکہ پینسٹھ میں جب آپریشن جبرالٹر شروع ہوا تو اصولی طور پر وزیر خارجہ نے ٹھیک کہا تھا کہ ایک متنازعہ علاقے کا جھگڑا بین الاقوامی سرحدوں تک وسیع نہیں ہو گا مگر اس وقت پاکستان کے پاس ایٹمی اسلحہ نہیں تھا اور اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے چوروں کی طرح لاہور اور سیالکوٹ پر جارحانہ حملہ کر دیا تھا۔ مگر پھر کبھی سیاچین سمیت، کشمیر کی جنگ نے پاکستان کی عالمی سرحدوں کو اپنی لپیٹ میں نہیں لیا۔

اب بھارت کے ساتھ جس کسی نے پیار کی پینگیں چڑھانی ہیں، نئی دہلی کی سیر کرنی ہے، تاج محل میں فوٹو سیشن کرنے ہیں یا ممبئی میں شاپنگ سے لطف اندوز ہونا ہے،ان کاموں کے لئے ہر ایک کو کھلی چھٹی ہے، بھارت سے پیازا ور ٹماٹر منگوائیں، پاکستان سے چینی اور سریے کے ٹرک بھارت بھیجیں اور دعا دیں اپنے ایٹمی پروگرام کو جو آپ کے لئے حفاظتی چھاتہ ہے اورابدالی، غوری، بابر، شاہین، نصر، ابابیل ، تیمور، جیسے میزائلوں پر فخر کریں جنہوں نے آپ کے سروں کی سلامتی کو یقینی بنا دیا۔

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

زرداری کی آگسٹا آبدوزوں کی خریداری میں کی گئی کرپشن

1994 میں ملیحہ لودھی کا بھائی عامر لودھی بھٹو فیملی کے فرنٹ مین کے طور …

error: Content is protected !!