Home / International / پاکستان روس سے لڑاکا طیارے جنگی ٹینک اور ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم خریدے گا

پاکستان روس سے لڑاکا طیارے جنگی ٹینک اور ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم خریدے گا

پاکستان کے دفاعی وزیر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پاکستان روس سے جدید ہتھیار لینے کے لیے بات کررہا ہے. پاکستان روس سے جدید جنگی جہاز SU_35 , ائیر ڈیفنس میزائل سسٹم S-400 اور T-90 جنگی ٹینک حاصل کرنا چاہتا ہے.

ان ہتھیاروں کے حصول کیلئے پاکستان کی روس سے بات چیت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے, تاہم پاکستانی دفاعی وزیر پرامید ہیں کہ پاکستان کو جدید جنگی ہتھیار دینے میں روس رضامندی ظاہر کر دے گا.

اس سے پہلے 2015 میں روس نے پاکستان کو دعوت دی تھی کہ پاکستان روس سے ہر طرح کا ہتھیار خرید سکتا ہے, جس کے بعد یہ خبر گردش کررہی تھی کہ پاکستان روس سے SU-35 لڑاکا طیارے حاصل کرنے جارہا ہے.

اصل میں پاکستان نے پہلے بھی ان لڑاکا طیاروں کے حصول کے لیے روس سے بات کی تھی مگر پاکستان کی فضائیہ یہ طیارے PESA ریڈار کے بجائے جدید ترین روسی AESA ریڈار کے ساتھ حاصل کرنا چاہتی تھی, مگر روسی حکام یہ ریڈار کسی دوسرے ملک کو فروخت کرنے پر رضامند نہیں تھے جس پر بات نہ بنی اور پاکستان نے یہ طیارے لینے کا ارادہ موخر کردیا.

اس کے علاوہ پاکستان کو اپنے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے بھی جدید ترین اور لانگ رینج ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم کی بھی ضرورت رہی ہے, اور پاکستان کی اس دفاعی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے جو بہترین ہتھیار ہے وہ ہے روسی ساختہ S-400, مگر یہ ایک مہنگا ترین فضائی دفاعی نظام ہے, جبکہ دیکھا جائے تو فلحال پاکستان اسے حاصل نہیں کر سکتا, لیکن اگر روس کی طرف دیکھا جائے تو اس وقت روس کو فوری طور پر اپنے ہتھیاروں کے گاہک چاہیئے ہیں.

روس پاکستان کو آسان قسطوں پر یہ ہتھیار فراہم کر سکتا ہے, مثال کے طور پر آئندہ پانچ سالوں میں پاکستان ان ہتھیاروں کی قیمت ادا کر سکتا ہے, اور کئی ممالک دفاعی معاہدے اسی طریقے سے کرتے ہیں, اس کے علاوہ چین بھی کسی حد تک پاکستان کو اس نظام کی فراہمی کےلئے مدد دے سکتا ہے, اور اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کو اس وقت بہت سے خطرات لاحق ہیں جن میں ایئر اٹیک یا میزائل اٹیک شامل ہیں.

اس وقت پاکستان میں چین نے بہت سے پروجیکٹس شروع کر رکھے ہیں, اور کچھ پروجیکٹس ایسے ہیں جنہیں بھارت اور امریکہ کسی صورت مکمل ہوتا نہیں دیکھ سکتے, گوادر پر ان دونوں ممالک کی نیت بری ہے اور ان منصوبوں کو نقصان دینے کے لیے دونوں ممالک پر تول رہے ہیں, لہذا پاکستان کا دفاع چین کے دفاع سے منسلک ہو چکا ہے, کیونکہ پاکستان کو نقصان ہوا تو ناصرف چین کی بھاری انویسٹمنٹ ضائع ہوجائیں گی بلکہ آئندہ چین اس رستے سے تجارت نہیں کر سکے گا۔ لہذا چین کا پاکستان کی خاطر دس پندرہ ارب ڈالر خرچ کرنا کوئی بڑی بات نہیں, جو کہ پاکستان آسان اقساط پر حاصل کرسکتا ہے.

روس کے ہتھیاروں کا ایک بڑا خریدار ہمارا پڑوسی ملک بھارت اب مزید روسی ساختہ ہتھیاروں میں دلچسپی نہیں رکھتا، بھارت کی نظر اب مغربی ممالک کے ہتھیاروں پر ہے، لہذا روس کو مزید خریدار چاہیے ہیں۔ پاکستان اور روس میں کچھ عرصے سے قربتیں بڑھ رہی ہیں، کیونکہ روس پاکستان کی اہمیت جانتا ہے۔ لہذا روس کو پاکستان کو اپنے جدید ہتھیار بیچنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔

پاکستان کے دفاعی وزیر نے کہا ہے کہ ہم روس سے ایک ہی بار خریداری کے خواہشمند نہیں ہیں, پاکستان آئندہ بھی ہتھیار روس سے خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے.

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

ایشیا کے اہم ممالک کی منزل مقصود

پاکستان چین اقتصادی راہداری کیا شروع ہوئی کہ دُنیا بھر کے ممالک میں اقتصادی معاشی …

error: Content is protected !!