Home / Pakistan Air Force / پاک فضائیہ نے اپنے جدید ترین جے ایف سترہ لڑاکا طیاروں کا ایک سکوارڈرن سمنگلی ایئر بیس پر تعینات کردیا ہے

پاک فضائیہ نے اپنے جدید ترین جے ایف سترہ لڑاکا طیاروں کا ایک سکوارڈرن سمنگلی ایئر بیس پر تعینات کردیا ہے

پاک فضائیہ نے اپنے جدید ترین جے ایف سترہ لڑاکا طیاروں کا ایک سکوارڈرن سمنگلی ایئر بیس پر تعینات کردیا ہے۔

اس سکوارڈن کی ذمہ داری یہ ہے کہ اسے نہ صرف زمینی مشن سرانجام دینا ہوں گے بلکہ دشمن فضائیہ کے طیاروں کی دراندازی کو بھی روکنا ہوگا، سمنگلی ایئر بیس پر تعینات کیے جانے والے ان جے ایف سترہ لڑاکا طیاروں کو کم اور زیادہ فاصلے تک فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے لیس کیا گیا ہے۔

ایک سکواڈرن میں تقریبا 16 سے 18 طیارے ہوتے ہیں، پاک فضائیہ کی طرف سے ان طیاروں کی تعیناتی کا فیصلہ یہ بات سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جیسا کہ ان طیاروں کی زمہ داری پاک افغان باڈر کی نگرانی کرنا ہے، مگر افغانستان کی طرف سے کس دشمن فضائیہ کا طیارہ پاکستان کی حدود میں داخل ہو سکتا ہے؟ یقینی طور پر ان طیاروں کی تعیناتی کا فیصلہ امریکی ڈرون کو مار گرانے کے لیے کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے امریکہ کو پاک فضائیہ کے چیف کی طرف سے یہ باور کروایا گیا تھا کہ ڈرون حملے بند نہ کیے گئے تو یہ ڈرون پاک فضائیہ کی طرف سے مار گرائے جا سکتے ہیں، جس کے بعد تقریبا تین سے چار ڈرون حملے ہو چکے ہیں، مگر پاک فضائیہ کی طرف سے کچھ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

جہاں تک میں سمجھتا ہوں پاکستان کو امریکی ڈرون گرانے کیلئے واقعی میں بہت عرصہ پہلے اپنے لڑاکا طیارے پاک افغان بارڈر کے نزدیک تعینات کرنا چاہیے تھے، کیوں جتنی دیر میں پشاور ایئر بیس سے لڑاکا طیارے ٹیک آف کرتے ہیں امریکی ڈرون میزائل حملہ کرنے کے فوراً بعد افغانی حدود میں چلے جاتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بارڈر بہت لمبا ہے، اور انتہائی قلیل وقت میں اتنا سفر کرنا ممکن ہے۔

اسی ضرورت کی بنا پر ایک اور سکواڈرن تعینات کرنا پڑا، اس کے علاوہ سمنگلی ائیربیس پر براق ڈرونز بھی تعینات کیے گئے ہیں، جو کہ اس بارڈر کی نگرانی کرنے کے لئے تعینات کیے گئے۔
Burraq Drone

پاکستان کی فضائیہ بہت جلد ایک نیا اور جدید ترین ڈرون بھی ، جسے کامرہ میں تیار کیا جا رہا ہے، اسی ایئربیس پر تعینات کر سکتی ہے۔

یہ جدید ترین ڈرون جدید میزائلوں سے لیس ہو گا اور زیادہ وقت تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو گا، اس ڈرون کو بنانے کا مقصد پاکستان کے بارڈر کی نگرانی کرنا اور جہاں ضرورت پڑے وہاں میزائل حملہ کرنا ہے۔
Pakistan Air Force nEW

اس جدید ڈرون کے ایک سکواڈرن کی تعیناتی کے بعد، پاک فوج کو افغان باڈر پر اپنی تعداد کم کرنے میں مدد ملے گی، جیسے کہ میں پہلے ہی اپنے ایک آرٹیکل میں بتا چکا ہوں کہ پاک افغان باڈر کی نگرانی اگر پاک فضائیہ ڈرونز کی مدد سے کرے تو پاک فوج کو جانی نقصان سے بچایا جاسکتا ہے، کیونکہ اس بارڈر کے نزدیک بارودی سرنگوں کی وجہ سے آئے روز پاکستانی فوجی زخمی یا پھر شہید ہوجاتے ہیں۔

جبکہ یہی فوج پاکستان اور بھارت کے بارڈر پر تعینات کی جا سکتی ہے۔ جو کہ بھارت کبھی نہیں چاہتا۔

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

بھارت اور اسرائیل آئی ایس آئی کے آگے بے بس

جنگوں کے دوران جاسوسی ہر ملک کا ایک اہم ہتھیار ہوتا ہے۔ یہ آج سے …

error: Content is protected !!