Home / Pakistan / پاکستان کا شہر گوادر

پاکستان کا شہر گوادر

پاکستان کا شہر گوادر.

گوادر پاکستان کے انتہائی جنوب مغرب میں اور دنیا کے سب سے بڑے بحری تجارتی راستے پر واقع ہے صوبہ بلوچستان کا شہر جو اپنے شاندار محل وقوع اور زیر تعمیر جدید ترین بندرگاہ کے باعث عالمی سطح پر معروف ہے۔(نام گوادر اصل بلوچی زبان کے دو الفاظ سے بنا ہے گوات یعنی “کھلی ھوا ” اور در کا مطلب” دروازہ” ہے۔ یعنی (ھوا کا دروازہ) گواتدر سے بگڑ کر گوادر بن گیا ہے) 60 کلو میٹر طویل ساحلی پٹی والے شہر گوادر میں اکیسویں صدی کی ضروتوں سے آراستہ جدید بندرگاہ کی تکمیل کا وقت جوں جوں قریب آرہا ہے اس کی اہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ آنے والے وقت میں نہ صرف پاکستان بلکہ چین،افغانستان اور وسط ایشیاء کے ممالک کی بحری تجارت کا زیادہ تر دارومدار اسی بندر گاہ پر ہوگا۔
gwadar port

تاریخ گوادر اور اس کے گرد و نواح کی تاریخ بہت پرانی ہے۔یہ علاقہ وادی کلانچ اور وادی دشت بھی کہلاتا ہے اس کا زیادہ رقبہ بے آباد اور بنجر ہے۔ یہ مکران کی تاریخ میں ہمیشہ سے ہی خاص اہمیت کا حا مل رہا ہے۔ معلوم تاریخ کی ایک روایت کے مطابق حضرت داﺅد علیہ السلام کے زمانے میں جب قحط پڑا تو وادی سینا سے بہت سے افراد کوچ کر کے وادی مکران کے علاقے میں آگئے ۔مکران کا یہ علاقہ ہزاروں سال تک ایران کا حصہ رہا ہے۔

ایرانی بادشاہ کاﺅس اور افراسیاب کے دور میں بھی ایران کی عملداری میں تھا ۔325قبل مسیح میں سکندر اعظم جب برصغیر سے واپس یونان جا رہا تھا تو اس نے یہ علاقہ اتفاقاً دریافت کیا اس کی بحری فوج کے سپہ سالار Admiral Nearchos نے اپنے جہاز اس کی بندرگاہ پر لنگر انداز کیے اور اپنی یادداشتوں میں اس علاقے کے اہم شہروں کو قلمات ،گوادر، پشوکان اورچابہار کے ناموں سے لکھا ہے۔ اہم سمندری راستے پر واقع ہونے کی وجہ سےسکندر اعظم نے اس علاقے کو فتح کر کے اپنے ایک جنرل Seleukos Nikator کو یہاں کا حکمران بنا دیا جو303قبل مسیح تک حکومت کرتا رہا ۔
Sikandar E Azam

303قبل مسیح میں برصغیر کے حکمران چندر گپت نے حملہ کر کے یونانی جنرل سے یہ علاقہ چھین لیا اور اپنی حکومت میں شامل کر لیا مگر 100سال بعد 202قبل مسیح میں پھر یہاں کی حکمرانی ایران کے بادشاہوں کے پاس چلی گئی ۔ 711عیسوی میں مسلمان جنرل محمد بن قاسم نے یہ علاقہ فتح کر لیا۔ ہندوستان کے مغلبادشاہوں کے زمانے میں یہ علاقہ مغلیہ سلطنت کا حصہ رہا جب کہ 16ویں صدی میں پرتگیزیوں نے مکران کے متعدد علاقوں جن میں یہ علاقہ بھی شامل تھا پر قبضہ کر لیا۔ 1581ءمیں پرتگیزیوں نے اس علاقے کے دو اہم تجارتی شہروں پسنی اور گوادر کو جلا دیا ۔ یہ علاقہ متعدد مقامی حکمرانوں کے درمیان بھی تختہ مشق بنا رہا اور کبھی اس پر بلیدی حکمران رہے تو کبھی رندوں کو حکومت ملی کبھی ملک حکمران بن گئے تو کبھی گچ کیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔

مگر اہم حکمرانوں میں بلیدی اورگچ کی قبیلے ہی رہے ہیں۔ بلیدی خاندان کو اس وقت بہت پذیرائی ملی جب انھوں نے ذکری فرقے کو اپنالیا اگرچہ گچ کی بھی ذکری فرقے سے ہی تعلق رکھتے تھے ۔1740ء تک بلیدی حکومت کرتے رہے ان کے بعد گچ کیوں کی ایک عرصہ تک حکمرانی رہی مگر خاندانی اختلافات کی وجہ سے جب یہ کمزور پڑے تو خان قلات میر نصیر خان اول نے کئی مرتبہ ان پر چڑھائی کی جس کے نتیجے میں ان دونوں نے اس علاقے اور یہاں سے ہونے والی آمدن کو آپس میں تقسیم کر لیا۔ 1775ء کے قریب مسقط کے حکمرانوں نےوسط ایشیاء کے ممالک سے تجارت کے لیے اس علاقے کو مستعار لے لیا اور گوادر کی بندر گاہ کو عرب علاقوں سے وسط ایشیاء کے ممالک کی تجارت کے لیے استعمال کرنے لگے جن میں زیادہ تر ہاتھی دانت اور اس کی مصنوعات ، گرم مصالحے ، اونی لباس اور افریقی غلاموں کی تجارت ہوتی

عمان میں شمولیت.

1783ء میں مسقط کے بادشاہ کا اپنے بھائی سعد سلطان سے جھگڑا ہو گیاجس پر سعد سلطان نے خان آف قلات میر نصیر خان کو خط لکھا جس میں اس نے یہاں آنے کی خواہش ظاہر کی چنانچہ خان نے نہ صرف سلطان کو فوری طور پر آ جانے کو کہا بلکہ گوادر کا علاقہ اور وہاں کی آمدن بھی لا محدود وقت کے لیے سلطان کے نام کر دیا ۔جس کے بعد سلطان نے گوادر میں آ کر رہائش اختیار کر لی۔1797ء میں سلطان واپس مسقط چلا گیا اور وہاں اپنی کھوئی ہوئی حکومت حاصل کر لی۔1804ء میں سلطان کی وفات کے بعد اس کے بیٹے حکمران بن گئے تو اس دور میں بلیدیوں نے ایک بار پھر گوادر پر قبضہ کر لیا جس پر مسقط سے فوجوں نے آ کر اس علاقے کو بلیدیوں سے واگزار کروایا۔

1838 ء کی پہلی افغان جنگ میں برطانیہ کی توجہ اس علاقہ پر ہوئی تو بعد میں1861ءمیں برطانوی فوج نے میجر گولڈ سمتھ کی نگرانی آکر اس علاقے پر قبضہ کر لیا اور1863ء میں گوادر میں اپنا ایک اسسٹنٹ پولٹیکل ایجنٹ مقرر کر دیا چنانچہ ہندوستان میں برطانیہ کی برٹش انڈیا اسٹیم نیویگیشن کمپنی کے جہازوں نے گوادر اور پسنی کی بندر گاہوں کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔1863ءمیں گوادر میں پہلا تار گھر (ٹیلی گرام آفس )قائم ہوا جبکہ پسنی میں بھی تار گھر بنایا گیا۔1894ءکو گوادر میں پہلا پوسٹ آفس کھلا جبکہ 1903ءکو پسنی اور1904ءکواورماڑہ میں ڈاک خانے قائم کیے گئے۔1947ءمیں جب برصغیر کی تقسیم ہوئی اور بھارت اورپاکستان کے نام سے دو بڑی ریاستیں معرض وجود میں آئیں تو گوادر اور اس کے گرد ونواح کے علاوہ یہ علاقہ قلات میں شامل تھا۔

پاکستان میں شمولیت.

1955ء میں علاقے کو مکران ضلع بنا دیا گیا۔ 1958ء میں مسقط نے 10 ملین ڈالرز کے عوض گوادر اور اس کے گرد ونواح کا علاقہ واپس پاکستان کو دے دیا جس پر پاکستان کی حکومت نے گوادر کو تحصیل کا درجہ دے کر اسے ضلع مکران میں شامل کر دیا۔ یکم جولائی 1970ءکو جب ون یونٹ کا خاتمہ ہوا اور بلوچستان بھی ایک صوبے کی حیثیت اختیار کر گیا تو مکران کو بھی ضلعی اختیار مل گئے۔1977ءمیں مکران کو ڈویژن کا درجہ دے دیا گیا اور یکم جولائی1977ءکو تربت،پنجگور اور گوادر تین ضلعے بنا دیے۔
gwadar pakistan

آج کا گوادر محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہم جگہ پر واقع ہے, گوادر کا موجودہ شہر ایک چھوٹا سا شہر ہے جس کی آبادی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نصف لاکھ جبکہ آزاد ذرائع کے مطابق ایک لاکھ افراد پر مشتمل ہے ۔

اس شہر کو سمندر نے تین طرف سے اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے اور ہر وقت سمندری ہوائیں چلتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے یہ ایک خوبصورت اوردلفریب منظر پیش کرتا ہے ویسے بھی گوادرکے معنی “ہوا کا دروازہ” ہے ۔گوا کے معنی ہوا اور در کا مطلب دروازہ ہے۔ گہرے سمندر کے علاوہ شہر کے ارد گرد مٹی کی بلند بالا چٹانیں موجود ہیں۔اس شہر کے باسیوں کا زیادہ تر گزر بسر مچھلی کے شکار پر ہوتا ہے اور دیگر اقتصادی اور معاشی ضرورتیں ہمسایہ ممالک ایران،متحدہ عرب امارات اوراومان سے پوری ہوتی ہیں۔

گوادر شہر مستقبل میں ایک بین الاقوامی شہر کی حیثیت اختیار کر جائے گااور نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کا اقتصادی لحاظ سے ایک اہم شہر بن جائے گا اور یہاں کی بندرگاہ پاکستان کے علاوہ چین، افغانستان، وسط ایشیاءکے ممالک تاجکستان،قازقستان، آذربائیجان،ازبکستان، ترکمانستان اور دیگر روسی ریاستوں کے استعمال میں آئے گی جس سے پاکستان کو بیش بہا محصول ملے گا۔

Gwadar Next

گوادر کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی وجہ سے اب لوگوں کی توجہ اس طرف ہو چکی ہے چنانچہ ایسے میں بے شمار فراڈیوں اور دھوکے بازوں نے بھی جعلی اور دو نمبر رہائشی سکیموں اور دیگر کالونیوں کی آڑ میں لوگوں کو لوٹنا شروع کر رکھا ہے کیونکہ پاکستان کے دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد گوادر کی اصل صورتحال سے بے خبر ہونے کی وجہ سے ان فراڈیوں کی چکنی چپڑی باتوں اور دلفریب اشتہارات کی وجہ سے ان کے جال میں پھنس کر اپنی جمع پونجھی سے محروم ہو رہے ہیں جبکہ یہاں ایسی سکیمیں جن کو گوادر دویلپمنٹ اتھارٹی نے این او سی بھی جاری کر رکھی ہیں مگر ان کی ابھی ابتداء بھی نہیں ہو سکی اور وہ اپنے پوسٹروں اور پمفلٹوں پر دوبئی اور ہانگ کانگ کے مناظر اور عمارتیں دکھا کر لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں.
Gwadar Future

ویسے بھی گوادر میں پینے کے پانی کی کمی ابی، سیوریج کے نظام کی عدم دستیابی اور دیگر عمارتی سامان کی عدم موجودگی کی وجہ سے نہ صرف پرائیویٹ سیکٹر بلکہ سرکاری سیکٹر میں بھی کوئی خاص کام شروع نہیں ہو سکا ماسوائے سی پورٹ اور چند ایک عمارتیں جن میں پرل کانٹی نینٹل اور دیگر منصوبوں کے جن پر کام مکمل ہوچکا ہے۔ جبکہ موجودہ گوادر شہرمیں ٹوٹی ہوئی سڑکیں، چھوٹی چھوٹی تنگ گلیاں اوربازاروںمیں گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ۔ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایک چیئرمین ، ڈائریکٹر جنرل اور گورننگ باڈی جس میں دو وفاقی وزیر ،ایک صوبائی وزیر ،ڈسٹرکٹ ناظم اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوتے ہیں پر مشتمل ایک ادارہ ہے۔

جی ڈی اے کے ماسٹر پلان کے مطابق گوادر شہر کا علاقہ موجودہ پوری گوادر تحصیل کے برابر ہے اور شہر کی بڑی سڑکیں 200فٹ چوڑی اور چار لین پر مشتمل ہو نگی جبکہ ان سڑکوں کے دونوں جانب 2/2لین کی سروس روڈ ہو گی اور شہر کے مین روڈ کا نام جناح ایونیو رکھا گیا ہے جو تقریبا14کلو میٹر طویل ہے اور اسی طرح بلوچستان براڈوے بھی200فٹ چوڑی اور سروس روڈ پر مشتمل ہو گی اور اس کی لمبائی تقریبا60کلو میٹر ہے جبکہ سمندر کے ساتھ ساتھ تقریبا24کلو میٹر سڑک تعمیر ہو گی اور جو چوڑائی کے لحاظ سے جناح ایونیو کی ماند ہو گی۔ یہ سڑکیں نہ صرف ایشیاءبلکہ یورپ کے بہت سے ممالک کے شہروں سے بھی بڑی سڑکیں ہو نگی ۔

اب تک ترقیاتی کاموں پر تقریبا60سے70ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ اخراجات بھی بڑھتے چلے جائیں گے ۔شہر میں ترقیاتی کاموں میں تاخیر اور سستی کی سب سے اہم وجہ میٹریل کا دور دراز علاقوں سے لایا جا ناہے جیسے ریت 135کلو میٹر سے لایا جاتا ہے جبکہ سیمنٹ اور سریا وغیرہ 800کلو میٹر دور کراچی سے لایا جاتا ہے۔ جبکہ ماسٹر پلان کے مطابق آنے والے دنوں میں گوادر تقریبا40کلومیٹر عریض اور60کلو میٹر طویل ہو گا۔

اب تک جی ڈی اے نے قانون کے مطابق رہائشی ، انڈسٹریل اور کمرشل نوعیت کی30 سے زائد سکیموں کے این او سی جاری کیے ہیں جبکہ سرکاری سکیمیں اس وقت 2ہیں جن میں سنگار ہاﺅسنگ سکیم جو تقریبا 13کلو میٹر لمبی اور4.5کلو میٹر چوڑی سمندر میں مٹی کی پہاڑی پر ہے جبکہ دوسری سرکاری سکیم نیو ٹاﺅن کے نام سے ہو گی جس کے 4فیز ہو نگے اور اس میں 120گز سے 2000گز کے پلاٹ ہو نگے۔ گوادر فری پورٹ نہیں بلکہ ٹیکس فری زون شہر ہو گا۔
gwadar Plots

جی ڈی اے نے این او سی جاری کرتے وقت پرائیویٹ اداروں کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ اپنی اپنی سکیموں میں پینے کے پانی کا انتظام کریں گے اور سمندر کا پانی صاف کرنے کے پلانٹ لگائیں گے جبکہ سیوریج کے پانی کے نکاس کا بھی ایسا انتطام کیا جا رہا ہے کہ گندا پانی سمندر میں شامل ہو کر اسے آلودہ نہ کرے اور کراچی جیسی صورتحال پیدا نہ ہو اور اس مقصد کے لیے ہر پرائیویٹ سکیم کو بھی پابند کیا ہے کہ وہ سیوریج کے پانی کو صاف کرنے کے ٹریٹمنٹ اور ری سائیکلنگ پلانٹ لگائیں اور اس پانی کو گرین بیلٹ اور پارکوں میں استعمال کیا جائے۔

اب گوادر شہر میں آکڑہ ڈیم سے پینے کا پانی آتا ہے جو 45 ہزار کی آبادی کے لیے کافی تھا مگر اب آبادی میں اضافہ کی وجہ سے پانی کا مسئلہ پیدا ہو گیا اور موجودہ پانی کی مقدار کم پڑ گئی کیونکہ اب گوادر کی آبادی ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے اور آنے والے دنوں میں اس میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا جس کے لیے میرانی ڈیم کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے مگر یہ گوادر سے120کلو میٹر دور ہے جہاں سے پانی لانا بہت مشکل کام ہو گا جبکہ میرانی ڈیم کے پانی کا سردیوں کی بارشوں پر منحصر ہے اور جیسا کہ اکثر ہوتا ہے کہ کئی کئی سال بارشیں نہیں ہوتی تو ڈیم میں پانی بھی نہیں آئے گا لہذا یہ کہا جائے تو درست ہو گا کہ گوادر میں اصل مسئلہ پانی کا ہی ہو گا جو ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
gwadar population

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

بھارت امریکہ گٹھ جوڑ پاکستان کیلئے خطرہ

امریکہ اور بھارت کے درمیان طویل مدتی گٹھ جوڑ پاکستان اور ایران ہی نہیں بلکہ …

error: Content is protected !!