Home / Pakistan Army / “پاکستان ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کی زبردست تخلیق آرمورڈ گارڈ پوسٹ” آہن

“پاکستان ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کی زبردست تخلیق آرمورڈ گارڈ پوسٹ” آہن

آرمورڈ گارڈ پوسٹ “آہن”

پاکستان نے جب سے دہشت گردوں سے اپنی بقا کی جنگ لڑنا شروع کی ہے تب سے ہی پاکستان آرمی کی چیک پوسٹوں پر حملوں کا بہت دباؤ رہا ہے.

یہ حملے زیادہ تر دستی بموں، خود کش حملوں یا ٹارگٹ کلنگ کی شکل میں ہوتے تهے.ان حالات میں حملے کے دوران مورچے بےکار تهے. وقت کا تقاضا تها کہ کوئی ایسا طریقہ ڈهونڈا جاتا جس میں چیک پوسٹ پر بہتر سکیورٹی کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اہلکاروں کی جان کا تحفظ بهی ممکن ہو سکے۔ ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا نے ایک ایسی آرمورڈ گارڈ پوسٹ بنائی جو کہ ایک بکتربند گاڑی کی طرح سپاہی کی حفاظت کر سکے، اس حفاظتی حصار کو “آہن” کا نام دیا گیا.

” آہن “ایک مربع شکل کا حفاظتی کمرے کی طرح ہے جس کے اوپر کے حصے میں دو سپاہیوں کی کهڑے ہونے کی جگہ ہے تا کہ اوپر کا سپاہی با آسانی حرکت کر سکے.
Armored Post Guard Pakistan

اوپر کے حصے میں ہیوی مشین گن یا لائٹ مشین گن نصب کی جا سکتی ہے. شدید گرمی کے موسم سے بچنے کے لیے اس گارڈ پوسٹ میں اے سی موجود ہے جبکہ بجلی سولر سسٹم سے یا بیٹری سے مہیا کی جا سکتی ہے.

یہ گارڈ پوسٹ انتہائی سخت سٹیل کی بنی ہوئی ہے جس پر لائٹ مشین گن (7.62ایم ایم) یا دستی بمب کا حملہ اثر نہیں کرتا، جبکہ گارڈ پوسٹ کی کھڑکیاں بهی بلٹ پروف شیشے کی بنی ہوئی ہیں، آپ واضح طور پر یہ دیکھ سکتے ہیں کہ اس گارڈ پوسٹ میں ایک دروازہ ہے جبکہ سوراخ نما کھڑکیاں بھی موجود ہیں، کھڑکیاں اس لئے کہ جب دشمن مختلف اطراف سے فائر کھولتا ہے تو سپاہی کا کھڑا رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔

یوں سپاہی اس گارڈ پوسٹ کے اندر بیٹھ کر ان مختلف چھوٹی بڑی کھڑکیوں سے دشمن کی نشاندہی کرکے نشانہ لگا سکتا ہے، یوں سپاہی بھی محفوظ رہتا ہے اور حملہ آور بھی مارا جاتا ہے۔ خود کو محفوظ کرکے دشمن کو ان چھوٹی چھوٹی کھڑکیوں سے نشانہ بنانے کا آئیڈیا نیا نہیں ہے، تاہم بہت کارآمد ہے۔
new post Guard Pakistan

میں ایک کشمیری ہوں، میرے آباؤاجداد کشمیر میں ہیں، جبکہ اس وقت راولپنڈی میں رہائش پذیر ہو، مجھے ایک بار اتفاق ہوا کہ میں آزاد کشمیر کے بارے میں جانوں، مجھے پتہ چلا کہ وہاں “بارل” نامی گاؤں میں جو کہ پہاڑ کی چوٹی پر ہے، وہاں ہندوؤں کا بنایا ہوا ایک قلہ موجود ہے، جہاں کبھی ہندو رہا کرتے تھے، وہ ایک جنگجو ہندوؤں کا قلہ تھا، جیسے میرے آباؤاجداد نے علاقے کے دوسرے لوگوں سے مل کر فتح کر لیا تھا، وہ قلعہ آج بھی موجود ہے، اس قلعے کی بناوٹ بلکل اس گارڈ پوسٹ جیسی ہی ہے۔
Qilla

جیسے اس کی دیواروں میں چھوٹے چھوٹے سوراخ کرکے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اس کے اندر موجود سپاہی باہر دشمن پر تو فائر کھول سکتا ہے مگر باہر موجود دشمن اس گارڈ پوسٹ کے اندر موجود سپاہی کو نشانہ نہیں بنا سکتا۔ میں اس قلعے کے بارے میں اور اسکی تاریخ کے بارے میں الگ سے ایک آرٹیکل لکھوں گا۔

پاکستان نا صرف بلوچستان، فاٹا اور پاک افغان سرحد پر موجود چیک پوسٹوں کو بہت جلد اس گارڈ پوسٹ سے لیس کر دے گا بلکہ اپنے شہروں میں موجود حساس جگہوں پر مامور سکیورٹی اہلکاروں کو اس سے لیس کیا جائے گا۔

واہ آرڈیننس کی یہ تخلیق کم قیمت بهی ہے اور اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا بهی بہت آسان ہے. اب حملے کی صورت میں گارڈ پوسٹ کے اوپر کا سپاہی چاروں طرف سے محفوظ ہو کر جوابی فائر کرسکتا ہے اور باآسانی ہرسمت حرکت بهی کرسکتا ہے.

یہ مکمل طور پر پاکستانی ساختہ ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ اس کی افادیت جاننے کے بعد دوسرے ممالک بھی پاکستان سے یہ آرمرڈ گارڈ پوسٹ خریدیں گے۔
Heavy Industries Taxila

تحریر : سعیدغالب / یاسر حسین

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

لال مسجد آپریشن کیوں ہوا تھا – کچھ تلخ حقائق

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں لال مسجد اور قبائیلی علاقوں میں آپریشن نے پاک آرمی کو …

error: Content is protected !!