Home / Pakistan Army / طاقتور مومن، کمزور مومن سے بہتر ہے

طاقتور مومن، کمزور مومن سے بہتر ہے

طاقتور مومن، کمزور مومن سے بہتر ہے!

آئیں آج ہم آپ کو ایک تاریخی داستان سناتے ہیں کہ جو ہمیں ہمارے والدین اور بزرگوں نے خود گھر میں سنائی ہے۔

ہمارے تمام بزرگوں اور والدین نے 1947 ءمیں قیام پاکستان کے وقت مشرک ہندوستان سے طویل اور مشکل سفر طے کرکے پاکستان کی جانب کی ہجرت کی تھی۔ یہ وہ دور تھا کہ جب پو رے ہندوستان میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی تھی۔ ہر طرف لاکھوں کی تعداد میں مسلمان اپنے گھروں سے نکل کر قافلوں کی صورت میں پاکستان کی جانب رواں دواں تھے۔ اس دوران مسلح ہندو اور سکھ جتھے مسلمانوں کو گاجر اور مولی کی طرح کاٹ رہے تھے۔پورے پورے گاﺅں مسلمانوں کے اس طرح ذبح کردیئے گئے کہ ایک فرد بھی زندہ نہ بچا۔ دہلی سے ہزاروں مسلمانوں کی ٹرین چلتی تھی اور راستے میں اس بری طرح ذبح کی جاتی کہ لاہور ریلوے اسٹیشن پر صرف لاشیں اتاری جاتیں۔

انگریزوں کے دور میں ایک سازش کے تحت مسلمانوں کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہ تھی۔ تھوڑا بہت اسلحہ کہ جو چند امیر مسلمانوں اور بڑے زمینداروں کے پاس تھا، وہ بھی انگریز اور ہندو سرکار نے فسادات شروع ہونے سے قبل ضبط کرلیا تھا۔ جو فوج اور پولیس تھی وہ مکمل طور پر ہندو اور سکھ تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندو انتہا پسندوں اور سکھوں کے پاس اپنا بھی بہت اسلحہ تھا۔ مسلمانوں کے نہتہ ہونے اور دشمنوں کے پوری طرح مسلح ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچاس لاکھ سے زائد مسلمان اس طرح ذبح کیے گئے کہ تاریخ اسلام میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

ہمارے بزرگوں نے ہمیں یہ بتایا کہ جن مسلمان کے پاس اسلحہ تھا وہ اپنے اور اپنے خاندان کی جان و مال و عزت کی حفاظت کرسکا، یا پھر مارا بھی گیا تو لڑتے ہوئے شہید ہوا اور اپنے ساتھ درجنوں مشرکوں کو لے کر گیا۔ جو نہتے تھے وہ بڑی بے بسی کے عالم میں مارے گئے۔

پھر ہمارے بڑوں نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ یہ تاریخ قیام پاکستان کے تقریباً پچیس برس بعد مشرقی پاکستان میں ایک دفعہ پھر دہرائی گئی۔ مکتی باہنی کے دہشت گرد، بھارتی فوج اور اندر کے غداروں نے جب محب وطن پاکستانیوں کا قتل عام شروع کیا تو وہی عالم تھا کہ جو 1947 ءمیں ہوا تھا۔ پانچ لاکھ کے قریب محب وطن پاکستانی مشرقی پاکستان میں بڑی سفاکی کے ساتھ شہید کردیئے گئے۔ صرف وہی پاکستانی بچ سکے کہ جو خود مسلح تھے یا جن کو پاک فوج کی حفاظت میسر آسکی۔

اپنے بزرگوں سے یہ واقعات سننے کے بعد ہم نے بچپن میں ہی یہ سمجھ لیا تھا کہ مسلمانوں کو کبھی غیر مسلح اور غیر تربیت یافتہ نہیں ہونا چاہیے، کہ ہمارے دشمن سفاک اور کمینے ہیں۔ ہمارے والدین نے بچپن سے ہی ہماری تربیت ہتھیاروں کے ساتھ کی۔ والد فوج میں تھے اور والدہ نیشنل گارڈز میں۔ بچپن سے ہی ہمیں ہتھیار رکھنے اور چلانے کی مکمل تربیت والدین نے دی۔ جب ذرا ہوش سنبھالا تو سیدی رسول اللہﷺ کی وہ حدیث شریف بھی پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی کہ جس میں سیدی رسول اللہﷺ نے اپنی امت کو نصیحت فرمائی کہ گھڑ سواری، تیر اندازی اور تیراکی سیکھو۔
Sword

اپنی جوانی کے دور میں ہی اللہ نے سعادت دی کہ ہم افغانستان کے جہاد میں شریک ہو کر افغانستان کو ملحد روسیوں سے آزاد کرانے کی جدوجہد میں شامل ہوں۔ وہاں بھی یہ دیکھا کہ افغانستان کے مسلمان کہ جن میں گھروں میں اسلحہ رکھنے کا رواج تھا، وہی اس قابل ہوئے کہ اپنے ملک کی آزادی اور جان و مال کی عزت کی حفاظت کیلئے تحریک مزاحمت جاری کرسکیں۔

آج پوری مسلمان دنیا کا حال ہمارے سامنے ہے۔ مشرق وسطیٰ کے تقریباً تمام بڑے ممالک یا کھنڈر بنائے جاچکے ہیں، یا بنائے جارہے ہیں۔ مسلمان امت کی تباہی کے تمام سامان مکمل ہیں۔خود ہمارے پاکستان میں آپ نے دیکھا کہ کس طرح خوارج نے سوات اور قبائلی علاقوں پر قبضہ کرکے لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کو بے گھر بھی کروایا، عزت و حرمت بھی پامال کی اور ریاست پاکستان کے خلاف بغاوت بھی برپا کی۔

آرمی پبلک سکول کے بچوں کی شہادت کا زخم تو ابھی تک ہمارے دلوں میں تازہ ہے۔ اپنے بچوں کی شہادتوں کے بعد پشاور میں اساتذہ کو اسلحہ چلانے کی تربیت دی جانے لگی تاکہ بچوں کی حفاظت کی جاسکے۔

ہم سے بہت لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم کیوں ہتھیاروں کے ساتھ تربیت کی ویڈیوز اور تصاویر اپنے پیج پر شیئر کرتے ہیں۔ تو اب آپ کو اس کا جواب مل گیا ہوگا۔

پاکستان حالت جنگ میں ہے، امت رسولﷺ حالت جنگ میں ہے، دشمن صرف پاکستان کو ہی نہیں پوری امت کو گھیرے میں لے چکا ہے۔ آنے والا وقت امن کا نہیں جنگ کا ہے۔ آج ہر مسلمان پر واجب ہے کہ سیدی رسول اللہﷺ کی حدیث شریف کے مطابق اور تحریک پاکستان اور مشرقی پاکستان کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے آپ کو مسلح بھی کرے، جہاد کی تربیت بھی لے اور پاکستان کے دفاع کی بھرپور تیاری کرے کہ اب دور غزوئہ ہند کا ہے۔
zaid hamid

ہم اپنی تصاویر اور ویڈیوز، نعوذباللہ، اپنی نمائش یا شو مارنے کیلئے نہیں ڈالتے۔ اس لیے ڈالتے ہیں آپ کو یہ معلوم ہو کہ پاکستان میں رہتے ہوئے قانونی طور پر بھی آپ پاکستان کے دفاع میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے تیار ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ہر شہری کو یہ اجازت ہے کہ اپنی جان و مال و عزت کے دفاع کیلئے قانونی ہتھیار رکھ سکتا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں لوگوں کے پاس قانونی ہتھیار موجود ہیں۔ مگر تربیت کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔

یہ ایسے ہی کہ آپ لاکھوں لوگوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دیں، مگر ان کو گاڑی چلانا نہ سکھائیں۔

اسی طرح پاکستان میں قانوناً تو ہتھیار رکھنے کی اجازت ہے اور لائسنس بھی دیئے جاتے ہیں، مگر عام شہریوں کیلئے ہتھیاروں کی تربیت اور استعمال کا کوئی باقاعدہ نظام موجود ہی نہیں ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے اور پاکستان کے محب وطن شہریوں کو ہتھیاروں کی قانونی تربیت کے حوالے سے ترغیب دینے کیلئے ہم اپنی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہیں۔ نہ تو یہ کام غیر قانونی ہے، نہ غیر اسلامی ہے، نہ غیر آئینی ہے نہ غیر اخلاقی۔ بلکہ خالصتاً شرعی ہے، قانونی ہے، آئینی ہے اور دفاع پاکستان کا تقاضا بھی۔

انسان کو جس چیز کا شوق ہوتا ہے، وہ اس کا انتظام کر ہی لیتا ہے۔ جس کو گاڑیوں کا شوق ہوتا ہے وہ گاڑی خرید ہی لیتے ہیں یا گاڑی چلانا سیکھ ہی لیتے ہیں۔ آج نوجوانوں کو قیمتی موبائل فونز کا شوق ہے، جیسے تیسے کرکے بھی اپنی پسند کے قیمتی موبائل فون خرید ہی لیتے ہیں۔

اسی طرح جس کو اسلحہ کی تربیت کا شوق ہو، وہ اس کا راستہ نکال ہی لیتا ہے۔ اگر آپ کے پاس اپنا اسلحہ نہیں، تو اسلحے کے لائسنس لیں، قانونی اسلحہ لیں اور کسی بڑے سے تربیت حاصل کریں۔ اگر لائسنس اور اسلحہ نہیں ہے تو کم از کم ایئر گن تو ہر کوئی خرید سکتا ہے۔ اسی سے نشانہ بازی کی تربیت کریں۔
taarget airgun

لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ جنگ کی بات نہ کریں، امن کی بات کریں۔ بچوں کو تعلیم کی ترغیب دیں، اسلحہ چلانے کی ترغیب نہ دیں۔ ایسے لوگوں کو ہم صرف یہ کہیں گے کہ ہمارے آرمی پبلک سکول کے بچے اپنے سکول میں تعلیم حاصل کرنے گئے تھے یا اسلحہ چلانے؟ ان کا کیا قصور تھا کہ ان کو اس بے دردی سے ذبح کردیا گیا؟ بات یہ ہے کہ ہم نے تعلیم بھی حاصل کرنی ہے، اور ملک و ملت و قوم کے دفاع کیلئے اب مسلح بھی ہونا ہے۔ ہم جس دور سے گزررہے ہیں، اس دور میں ہر رنگ و نسل کا کافر، مشرک اور خارجی مسلمانوں کا شکار کررہا ہے۔ پوری دنیا میں نہ مسلمانوں کی جان محفوظ ہے، نہ مال، نہ آبرو۔ ایسے دور میں مسلمانوں کبھی بھی غیر مسلح اور غیر تربیت یافتہ نہیں رہ سکتا۔

ہم جس دور میں رہ رہے ہیں اس میں دفاع پاکستان کی ذمہ داری صرف پاک فوج کی نہیں ہے۔ آنے والے دور میں ہر محب وطن پاکستانی کو پاک فوج کے شانہ بشانہ اس پاک سرزمین کا دفاع کرنا ہوگا۔ تربیت زمانہ امن میں ہی ہوتی ہے، سمجھدار امن کی فرصت کو تربیت کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ وہ احمق ہوتے ہیں کہ جو جنگ شروع ہونے کے بعد اسلحہ تلاش کرنے کیلئے دوڑیں لگائیں۔ ایسے جاہلوں کے نصیب میں پھر ذلت کی موت ہی ہوتی ہے۔
paak army

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

پاک فوج اور حزب اللہ کے لیڈر حسن نصر اللہ کی وصیت

حزب اللہ کے لیڈر حسن نصر اللہ نے پاکستانی سیاستدان کو اپنی حیران کن وصیت …

error: Content is protected !!