Home / Pakistan Army / عالمی عسکری طاقتوں میں پاکستان کی حیثیت

عالمی عسکری طاقتوں میں پاکستان کی حیثیت

ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی طاقت ور ترین افواج میں پاکستانی فوج کا گیارہواں نمبر ہے۔ آیندہ دہائی میں پاکستان دنیا کی تیسری بڑی ایٹمی قوت بن جائے گا۔
دفاعی ساز و سامان کی تعداد اور پیداوار پر مبنی اس رپورٹ میں جنگی تربیت اور مہارتوں کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔
اس درجہ بندی میں بھارت کا پانچواں نمبر ہے جس پر بھارتی میڈیا خوب خوب اچھل رہا ہے، حالانکہ اس میں اس بات کو پیش نظر نہیں رکھا گیا ہے کہ کس ملک نے کتنی جنگیں کس سطح کی لڑی ہیں اور اس کی کامیابی کا تناسب کیا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کے حوالے سے پہلے بھی عالمی ذرائع ابلاغ میں خبریں نشر ہوتی رہی ہیں۔ خصوصاً پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی جو جدید ترین ہونے کے ساتھ ساتھ  ایٹمی صلاحیت کی حامل بھی ہے، اس سے دنیا کے طاقت ور ممالک پاکستان کو ایک قریب ترین طاقتور مدمقابل کے طور پر جاننے لگتے ہیں۔
pakistan top military weapons

جنوبی ایشیا میں بھارت کی غیرمعمولی عسکری تیاریوں اور اسرائیل و امریکا سے عسکری معاہدوں کی وجہ سے خطے کے تمام ممالک اپنے آپ کو ایک خطرے میں محسوس کرتے ہیں، لیکن پاکستان کی دفاعی اور عسکری صلاحیت کا اعتراف جب عالمی سطح پر کیا جاتا ہے تو بھارت کی دھاک کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں صرف جنگی سازو سامان کو پیش نظر رکھ کر درجہ بندی کی گئی ہے، اس کی رو سے بھی گیارہواں نمبر بننا پاکستان کی ایک بڑی عالمی طاقت ہونے کی دلیل ہے، لیکن اگر اس بات کو پیش نظر رکھا جائے کہ گزشتہ 30 سالوں میں پاکستان نے دو بڑی عالمی طاقتوں امریکا اور سوویت یونین کی مہم جوئیوں کو بھی بڑی مہارت کے ساتھ ہینڈل کیا اور اس خطے میں قدم جمانے کے ان کے خوابوں کو بری طرح ناکام بنادیا۔
Pakistan The Big Gamer

یہ ایک طویل جنگی مہارت اور تجربہ ہے جو پاکستانی فوج اور اس کے خفیہ اداروں کے پاس ہے۔ یہ روس اور امریکا سمیت کسی بڑی طاقت کے پاس نہیں ہے۔ 90ء کی دہائی میں سوویت یونین اور 2000ء کے بعد امریکا اور نیٹو ممالک افغانستان پر حملہ آور ہوئے، دونوں مرتبہ کی جنگ دس دس سالوں سے زائد تک چلی۔ بالآخر حملہ آور ناکام ہوئے اور خطہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
Mi 35 pakistan

بظاہر ان دو جنگوں میں ایک حریف افغانستان کے عوام تھے۔ یقینا میدان جنگ میں تو غیور افغانی مسلمان ہی تھے، جنہوں نے پناہ قربانیاں اور لازوال شجاعت کی داستانیں رقم کرکے غیرملکی حملہ آوروں کو ناکام بنادیا۔ ان سرفروشوں کی قربانیاں تاریخ میں سنہرے حروف سے ثبت ہوگئی ہیں، لیکن ان دونوں جنگوں میں جنگ کی حکمت عملی، منصوبہ بندی اور پشت پناہی کرنے والا واحد ملک پاکستان ہے۔ یہ بات عام طور پر سمجھ میں نہیں آتی، لیکن شکست خوردہ حریف نے اس کا باقاعدہ اعتراف کرلیا ہے کہ افغانستان میں اس کو درپیش مشکلات اور ناکامی کا اصل سبب کون ہے؟
Russia again in Afghanistan

درحقیقت سوویت یونین اور امریکا اور اس کے اتحادی افغانستان سے اصل دلچسپی نہیں رکھتے تھے، روس تو افغانستان کو ایک گزرگاہ کے طور پر اپنے زیر قبضہ لانا چاہتا تھا تاکہ پاکستان کے گوادر ساحل کے ذریعہ وہ دنیا کے وسط تک پہنچ کر گرم سمندروں میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرے۔ بحری راستے اس دور میں تجارت اور عسکریت دونوں حوالوں سے نہایت اہم ہیں،

روس ایشیا کے مشرق سے مغرب تک پھیلے ہوئے ہونے کے باوجود اس نعمت سے محروم تھا کہ اس کا اکثر حصہ قطب شمالی سے ملتا ہے جہاں سمندر تو ہیں، لیکن منجمد ہیں اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک جن پر سوویت یونین نے قبضہ کر رکھا تھا ان میں کوئی بھی بین الاقوامی سمندروں سے ملتا نہیں تھا، اس لیے روس کی شدید مجبوری تھی کہ وہ گوادر کے ذریعہ بین الاقوامی سمندروں تک پہنچے۔
gwadar new port For world

امریکا اور اس کے اتحادیوں کا ظاہری بہانہ تو دہشت گردی کا خاتمہ اور القاعدہ کا مسئلہ تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکا اس خطے میں القاعدہ کو ایک جواز کے طور پر ہدف میں رکھ کر آیا۔ اس مہم جوئی کا اصل مقصد بھی پاکستان کا ساحل اور گوادر پورٹ تھا جس کا ٹھیکہ امریکا کی شدید مخالفت اور دھمکیوں کے باوجود پاکستان نے چائنا کو دے دیا تھا۔ امریکا یہ منصوبہ کسی طرح چلنے نہیں دینا چاہتا تھا اور اب بھی اس پر راضی نہیں ہے، امریکا چاہتا تھا کہ ایشیا کا یہ اہم ترین دروازہ اس کے زیر تسلط ہو ،تاکہ اس خطے میں امریکی بالادستی اور تجارتی مفادات کو سہارا مل سکے۔

پاکستان نے امریکی ناراضگی کو نظرانداز کرکے چائنا کو ٹھیکہ دے دیا تو امریکا نے اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے خطے میں مداخلت کرنے کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دے دیا اور اپنے اتحادیوں سمیت افغانستان میں آدھمکا۔ اس کی آمد کے بعد پاکستان میں شدید بدامنی شروع ہوئی۔ مسلح تحریکیں کھڑی ہوگئیں۔
america in asia

مزاحمت، بغاوت اور خانہ جنگی کی سی صورت حال پیدا ہوگئی۔ اس سب کے پیچھے امریکا بواسطہ بھارت تھا، یہاں تک کہ پاکستان کو ایک ناکام ریاست کے طور پر دیکھا جانے لگا، لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔
دس بارہ سال کی مہم جوئی کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ وہ پاک چائنا تجارتی معاہدوں کی راہ میں دیر تک نہیں ٹھہرسکتے، چنانچہ یہ بھوکے بھیڑیے ایک ایک کرکے میدان چھوڑتے گئے اور امریکی فضائیہ کے چند اڈّوں کے سوا سب نکل گئے۔

امریکا نے افغانستان میں بیٹھ کر بھارت کی حمایت سے پاکستان کو کمزور کرنے اور گوادر ساحل کے معاہدوں سے واپسی پر مجبور کرنے کے لیے جتنے بھی پتے کھیلے وہ سب بری طرح پٹ گئے اور امریکا و بھارت دونوں کو افغانستان میں کی گئی بھاری سرمایہ کاری مہنگی پڑگئی۔

پاکستان کے اپنے داخلی مسائل، نااہل حکمران اور عیاش اور بدعنوان بالائی طبقہ ہی دراصل اس ملک کا بڑا دشمن ہے اور اسی سے اس ملک کو نقصان پہنچا ہے۔ رہی بین الاقوامی طاقتیں بھارت یا کوئی بھی مہم جو ملک تو پاکستان کے پاس اس کو منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت ہے۔ اقتصادی حوالے سے بھی پاکستان کو اپنے ہی اندر سے بدحالی کا سامنا کرنا پڑا ہے.
pakistan problems

جب سے زرداری حکومت ختم ہوئی ہے اور چائنا کو یہ یقین ہوچکا ہے کہ اب پاکستان چائنا سے کیے گئے معاہدوں پر عملدرآمد کرنے کی پوزیشن میں آچکا ہے تو چائنا نے بھی اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے ہیں۔

پاک چائنا اقتصادی راہداری کا منصوبہ چائنا کو تو یقینا غیرمعمولی تقویت دینے کے باعث ہے۔ پاکستان بھی اس منصوبے سے معاشی حوالے سے اتنا آگے نکل جائے گا کہ دنیا حیران ہوجائے گی۔
پاک چائنا دوستی ایک ایسی زنجیر ہے جو ایشیا کو بحر عرب سے لے کر بحرالکاہل تک بیچ میں لکیر کی طرح تقسیم کرتی ہے۔ اس راہداری کے بننے کے بعد ایشیا کا جنوب اس کے شمال سے رابطہ کرنے میں اسی کا محتاج ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ بھارت کو اس منصوبے پر بہت ہی دُکھ ہے، وہ امریکا کے ساتھ مل کر اس منصوبے کو ہر حال میں ناکام بنانا چاہتا ہے،
لیکن اس کی بدقسمتی یہ ہے کہ…… اس معاہدے کا ایک فریق ….چائنا ہے…. ایک پاکستان۔
دونوں ممالک کمزور نہیں، بلکہ بڑی عالمی طاقتوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
pak china military

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

جنرل اسد درانی کا اصل چہرہ : زید حامد

جنرل درانی کی کتاب پر مجھے کوئی تجزیہ کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے …

error: Content is protected !!