Home / Pakistan Army / پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق تھے – چودھری نثار

پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق تھے – چودھری نثار

چوہدری نثار نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے ایک میٹنگ میں باقاعدہ ثبوت پیش کئے تھے جن سے ثابت ہوتا تھا کہ اس وقت پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوچکے تھے۔ وہ خطرات کیا تھے، ان کی نوعیت کیا تھی، اس بارے میں چوہدری صاحب نے مزید گفتگو کرنے سے انکار کردیا کیونکہ معاملہ حساس نوعیت کا تھا۔

چوہدری صاحب نے جس میٹنگ کا حوالہ دیا وہ 2015 کے اوائل میں منعقد ہوئی جس میں آرمی چیف، نوازشریف، چوہدری نثار، ڈی جی آئی ایس آئی اور چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی شریک ہوئے۔ معاملہ اتنا حساس تھا کہ وزیردفاع کو بھی اس میٹنگ سے باہر رکھا گیا اور وجہ اس کا بڑبولا ہونا تھا۔

راحیل شریف نے شرکا کے سامنے چند آڈیو ٹیپس، کچھ ویڈیو کلپس اور کچھ دستاویز رکھیں جن کے مطابق 2015 کے وسط یا اواخر تک، ایران، انڈیا اور افغانستان کی فوجیں مل کر پاکستان میں سرجیکل سٹرائیکس کا پروگرام بنا رہی تھیں۔ جونہی یہ سٹرائیکس شروع ہوتے، پاک فوج کی توجہ ان پر مبذول ہوجاتی اور پھر ملک کے اندر موجود ہشتگردوں کی مدد سے ملک کے طول و عرض میں سانحہ پشاور کے طرز کے واقعات شروع کروا دیئے جاتے۔

یہ سب کچھ اتنی تیزی سے ہونا تھا کہ ہمیں سنبھلنے کی مہلت نہ ملتی اور پھر جنرل اسمبلی کے زریعے ایک قرارداد منظور کروا کر پاکستان کے نیوکلئیر اثاثوں کی حفاظت کے نام پر انٹرنیشنل محافظوں کا دستہ تعینات کروا دیا جاتا۔ اس دستے کی سربراہی امریکہ یا برطانیہ کی بجائے کسی مسلمان ملک کے جنرل کے ہاتھ میں دی جانی تھی، یہ ملک مصر یا اردن تھا لیکن وہ جنرل بالواسطہ طور پر تمام ہدایات براہ راست امریکہ سے ہی لیتا۔
raheel sharif

انڈیا، ایران کی طرف سے ہونے والے سرجیکل سٹرائکس کو ڈیل کرنے کیلئے پاک فوج کو ہی آگے کیا جانا تھا جبکہ انٹرنیشنل دستے کی ڈپلائمنٹ ہمارے حساس مقامات پر ہونا تھی اور قواعد کی رو سے ہمیں اپنی تمام تنصبات کے نقشے ان کے حوالےکرنا پڑتے۔

یہ تھا وہ پلان جس کی بنیاد پر چوہدری نثار نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق تھے اور ابھی بھی ہیں۔

آپ کو یاد ہوگا کہ چند ماہ پہلے ایران نے اپنی اس دھمکی کا اعادہ کیا کہ وہ پاکستان کے علاقوں میں کاروائی کرسکتا ہے، انہی الفاظ میں انڈیا اور افغانستان بھی دھمکیاں دے چکے ہیں۔

راحیل شریف جانتے تھے کہ وہ انڈیا، ایران اور افغانستان کے سرجیکل سٹرائکس کا بخوبی مقابلہ کرسکتے ہیں، انھیں اصل فکر دہشتگردوں کی تھی جن کی وجہ سے اقوام متحدہ نے اپنے حفاظتی دستے پاکستان ڈپلائے کرنا تھے۔ چنانچہ راحیل شریف نے اپنا سارا فوکس ان دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے میں صرف کیا اور اللہ کی مہربانی سے یہ خوفناک پلان ناکام بنا دیا۔

اب آپ پچھلے سال نومبر میں ہوئے ڈان لیکس کو ایک مرتبہ پھر سٹڈی کریں جس کے زریعے پاک فوج کو دہشتگردوں کا حامی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ پلان ایک مرتبہ پھر وہی تھا کہ پاکستان کے خلاف بین الاقوامی قرارداد منظور کروائی جائے۔

نئے آرمی چیف جنرل باجوہ کی تقرری پر ساجد میر کے زریعے ان کے قادیانی ہونے کا شوشہ بھی اسی گیم پلان کا حصہ تھا کہ آرمی کے خلاف عوام میں نفرت پھیلائی جائے تاکہ انارکی کی صورتحال پیدا ہوسکے۔
Gen Raheel with Gen Qamar Javed Bajwa

اگر نوازشریف صرف کرپٹ ہوتا تو ہم پھر بھی برداشت کرلیتے، وہ تو اپنے اقتدار بچانے کیلئے بین الاقوامی طاقتوں کا آلہ کار تک بننے کو تیار تھا، اور صرف نوازشریف ہی نہیں، آدھی سے زیادہ ن لیگ کی موجودہ قیادت بھی اس کی ہمنوا ہے۔

اپنی صفوں میں موجود بھیڑیئے پہچانیں، قبل اس کے کہ بہت دیر ہوجائے۔

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

چین کی طرف سے پاکستان کو میزائل ٹریکنگ سسٹم کی فراہمی

چین کی طرف سے پاکستان کو میزائل ٹریکنگ سسٹم کی فراہمی چین کی طرف سے …

error: Content is protected !!