Home / Pakistan Army / پاک فوج میں شامل ایک کشمیری فوجی کا سچا واقعہ

پاک فوج میں شامل ایک کشمیری فوجی کا سچا واقعہ

یہ ایک سچا واقعہ لکھ رہا ہوں جسے جان کر آپکو بہت حیرانگی ہوگی، میرا نام یاسر حسین ہے اور میں آزاد کشمیر سے تعلق رکھتا ہو اور اس وقت راولپنڈی میں رہتا ہوں, ہم 1990 میں کشمیر سے یہاں آئے تھے،

میرے والدین اکثر مجھے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگوں کے بارے میں بتاتے رہتے ہیں، کچھ واقعات ہم پہلے سے جانتے ہیں مگر کچھ ہم جان ہی نہیں پاتے اور وہ واقعات ہمارے بڑوں کے سینوں میں ہی رہ جاتے ہیں۔

کشمیر میں کوئی بھی گھر ایسا نہیں جس میں سے کم ازکم کوئی ایک مرد پاکستان کی فوج میں شامل نہ ہو، جس وقت پاکستان بنا اس وقت سے اب تک کشمیریوں نے اپنے ملک پاکستان کےلئے بہت جانیں قربان کیں، ایک اور خاص بات یہ ہے کہ چونکہ وہاں کے لوگ سخت جان ہوتے ہیں تو ان لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ پاکستان کی ایس ایس جی کے لیے انہیں چنا جائے۔

یہ تو تھی وہ باتیں جو بہت کم لوگ جانتے ہیں مگر اب میں آپ کو ایسا واقعہ بتانے جا رہا ہوں جسے جان کر آپ کو بہت حیرانگی ہوگی۔

شہادت ایک بہت بڑا رتبہ ہے اور یہ رتبہ اللہ جسے چاہتا ہے اسے دیتا ہے, شہید ہونے والا تو اپنے رتبے پر فائز ہوجاتا ہے مگر اکثر شہیدوں کی بیویاں بھی اپنے شہید خاوند کی وجہ سے اللہ کے بہت قریب ہو جاتی ہیں۔
shaheed

میری والدہ مجھے بتاتی ہیں کہ جب 1971کی جنگ شروع ہوئی تو ہمارے گاؤں سے ایک لڑکا جو کہ پاکستان آرمی میں تھا شہید ہوگیا، اس لڑکے کا نام ” شہپال ” تھا ، اس نوجوان کی شادی شہادت سے 7 مہینے پہلے ہوئی تھی، اس نوجوان کا والد بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی کسی جھڑپ میں شہید ہو چکا تھا، اور جب اس کا والد شہید ہوا تو وہ ایک سال کا بچہ تھا، ماں نے اسے پالا اور جوان ہوتے ہی اس کی شادی کر دی، وہ ماں باپ کا اکیلا بیٹا تھا۔

شادی کے سات مہینے بعد جنگ شروع ہوگئی اور وہ نوجوان بھی اپنے والد کی طرح شہید ہوگیا اس کی بیوی بھی اس کی ہم عمر تھی، جب وہ شہید ہو گیا تو کچھ عرصہ بعد اس کی بیوی کو اس کے بہن بھائی اور ماں باپ مجبور کرنے لگے کہ تم کسی اور سے شادی کر لو اور اپنی زندگی خراب مت کرو، ابھی عمر پڑی ہے کیسے اکیلی رہوں گی۔

یہ سب باتیں اس عظیم لڑکی پر اثر نہ کر پائیں اسے معلوم تھا کہ شہادت وہ رتبہ ہے جس پر فخر کرنا چاہیے, اس عظیم لڑکی نے اپنے والدین کو یہ کہ کر منع کر دیا کہ” میں ہمیشہ شہید کی بیوہ کہلوانا پسند کرتی ہوں”

وہ لڑکی اپنی بوڑھی ساس کا سہارا بن گئی, جب بھی اپنے شہید خاوند کی پینشن لاتی اپنی ساس کو بھی دیتی۔ مجھے یقین ہے کہ خدا نے ان دونوں بیواؤں کو اس کا اجر ضرور عطا فرمائے گا, یہی وہ عورتیں ہیں جو ٹیپو سلطان اور محمود غزنوی جیسے بیٹے پیدا کرتی ہیں۔

اگر آپکو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو یہ پوسٹ دوسروں سے بھی شیئر کریں ۔ تاکہ پاکستان کے دوسرے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو بھی یہ جاننے کا موقع ملے کہ کشمیری عوام کتنا پیار کرتی ہے اپنی فوج سے۔ شکریہ
shaheed foji

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

پاک فوج اور حزب اللہ کے لیڈر حسن نصر اللہ کی وصیت

حزب اللہ کے لیڈر حسن نصر اللہ نے پاکستانی سیاستدان کو اپنی حیران کن وصیت …

error: Content is protected !!