Home / International / قائد اعظم ایک اسلام پسند انسان یا سیکیولر

قائد اعظم ایک اسلام پسند انسان یا سیکیولر

آج 25 ڈسمبر ہمارے باباء قائد کا یومِ ولادت ہے, اللہ پاک انکے درجات بلند فرمائے , اور میں کئی دنوں سے اسی کوشش میں لگا ہوا تھا کہ حوالہ اکٹھے کیے جائیں قائداعظم رح کے بارے میں جن میں انہوں نے واضع طور پے بتا دیا تھا کہ پاکستان کے ایک اسلامی ریاست ہوگی نہ کہ سیکیولر, اور خود قائداعظم ایک اسلام پسند انسان تھے.

ہماری قوم ملسمانوں کا المیہ یہی ہے کہ ظاہر پے زیادہ زور ہوتا ہے باطن ویسے ہی خراب ہوتا ہے اور اس ظاہر کو دیکھہ کہ فتویٰ لگا دیے جاتے ہیں مسلمانوں پے کہ یہ سیکیولر ہے خواہ وہ اندر سے کتنا ہی اسلام پسند ہو……

میں تو حیران ہوتا ہوں خدا کی قدرت پے ,اس زمانے میں یہی حالات تھے کہ دین کا تصور اتنا خراب کردیا تھا اس وقت علماء سو نے کہ باقی علماء بھی بٹھکنے لگے تھے, یہاں تک گاندھی کو ممبر پے بٹھا دیا گیا, تبھی اللہ پاک نے دو انسان سے ایسا کام لیا جو ظاہر میں تو ماڈرن تھے پر اتنے زیادہ اسلام پسند تھے کہ شاید ہی کوئی مولوی ہو.

اور سیکیولر لبرلز برگیڈ نے اسی ظاہر کا فائد اٹھایا اور الزام تراشی کی دشمن کے ساتھہ ملک کے..

یہی سب قائداعظم رح کے ساتھہ ان سیکیولر لبرلر بیغرت برگیڈ نے کیا کئی سالوں تک کیا , لیکن الحمد اللہ متعدد کتابیں تقریریں حوالے موجود ہی جن میں انکو رد کیا گیا ہے آج تک سیکیولر لبرلز یہ ثابت نہیں کرسکے کہ قائدِ اعظم پاکستان سیکیولر بنانا چاہیتے تھے قائد جب کہ کئی شخصیت نے ہزاروں حوالوں سے ثابت کردیا ہے پاکستان ایک اسلامی ریاست ہوگی, انہیں چند کتابیں سے میں سے میں نے چند حوالے اکٹھے کیے ہیں خود قائد کی شخصیت کے اور ان کی اسلام پسند تقریری جو آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں….

حوالہ نمبر 1

اپریل 1945ء میں قائد اعظم رح خان آف قلات کی دعوت پر بلوچستان تشریف لے گئے اِس موقع پر خان آف قلات نے اُن سے بچوں کے ایک اسکول کے معائنے کی درخواست کی، قائد اعظم رح ننے منے بچوں سے مل کر بہت خوش ہوئے اور اُن سے گھل مل گئے، قائداعظم رح نے ایک بچے سے خان آف قلات کی جانب اشارہ کرکے پوچھا یہ کون ہیں..؟؟
بچے نے جواب دیا یہ ہمارے بادشاہ ہیں، قائد اعظم رح نے بچے سے پوچھا، میں کون ہوں..؟؟؟ بچہ بولا، آپ ہمارے بادشاہ کے مہمان ہیں، قائد نے پھر بچے سے پوچھا، تم کون ہو،بچہ بولا، میں بلوچ ہوں،قائد اعظم رح نے خان آف قلات سے کہا ،اب آپ اِن کو پہلا سبق یہ پڑھایئے کہ میں مسلمان ہوں اور بچوں سے مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا ،بچو….! تم پہلے مسلمان ہو،پھر بلوچ یا کچھ اور ہو……

(کتاب: اسلام کا سفیر محمد متین خالد )

حوالہ نمبر 2

پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے ایک موقع پر جب قائداعظمؒ کوئٹہ میں قیام پذیر تھے، اُن کی کچھ ایسی تصویریں دکھائیں جو انہوں نے کھینچی تھیں، قائد اعظمؒ نے اُن سے اپنی مزید تصویریں کھینچنے کی فرمائش کی، دوسرے دن جناب یحییٰ بختیار اپنا کیمرہ اور فلیش لے کر قائداعظمؒ کی رہائش گاہ پہنچے، اُس وقت قائداعظم حضور نبی کریمﷺ کی احادیث پر مشتمل ایک کتاب جس کا ٹائیٹل ’’الحدیث‘‘ تھا مطالعہ فرمارہے تھے،یحییٰ بختیار چاہتے تھے کہ وہ قائداعظم کی تصویر ایسے زاویہ سے لیں کہ کتاب کا ٹائیٹل بھی فوکس میں آسکے، لیکن قائداعظم نے تصویر کھنچوانے سے پہلے کتاب علیحدہ رکھدی اور یحییٰ بختیار سے فرمایا ’’میں ایک مقدس کتاب کو اِس قسم کی پبلسٹی کا موضوع بنانا پسند نہیں کرتا…..

حوالہ نمبر 3

11 سیپٹمبر 1947 جب تقریر قائدِ اعظم نے کی تھی اقلیتوں کے حوالے سے جو میثاقِ مدینہ کی نقل تھی تو اسی تقریر کو اس وقت بھی چند شرارتی لوگوں نے اچھالنا شروع کیا کہ قائدِ اعظم رح سیکیولر ملک بنانا چاہیے تھے تو اسکا جواب خود قائدِ اعظم رح ہی دیکے گئے اسکے ٹھیک 3 مہینے بعد…..

25 جنوری 1948ء کو کراچی بار اسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے قائد پاکستان نے فرمایا تھا :
میں ان لوگوں کی بات نہیں سمجھ سکتا ، جو دیدہ و دانستہ اور شرارت سے پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان کا دستور شریعت کی بنیاد پر نہیں بنایا جائے گا ۔ اسلام کے اصول عام زندگی میں آج بھی اسی طرح قابل اطلاق ہیں ، جس طرح تیرہ سو سال پہلے تھے ۔
میں ایسے لوگوں کو جو بدقسمتی سے گمراہ ہو چکے ہیں ، یہ صاف صاف بتا دینا چاہتا ہوں کہ نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ یہاں غیر مسلمانوں کو بھی کوئی خوف نہیں ہونا چاہئے ۔

Why this feeling of nervousness that the future constitution of Pakistan is going to be in conflict with Shariat Laws? Islamic principles today are as applicable to life as they were 1,300 years ago.​
I would like to tell those who are misled by propaganda that not only the Muslims…..

حوالہ نمبر 4

13 جنوری 1948ء کو اسلامیہ کالج ، پشاور کے جلسہ میں حصولِ پاکستان کا مقصد بیان کرتے ہوئے قائد پاکستان نے فرمایا تھا :
ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں ۔
we did not demanded Pakistan just for the sake of a piece of land. Instead, we wanted to obtain such a laboratory, where we can adopt the Principles of Islam……​

حوالہ نمبر 5

علامہ شبیر احمد عثمانی نے قائد اعظم کی وفات کے بعد بتایاکہ ”قائد اعظم نے انہیں ایک نشست میں بتایا تھا کہ جب وہ لندن میں مقیم تھے تو ایک خواب میں انہیں رسول اکرم ﷺکی زیارت ہوئی جس میں آپﷺ نے فرمایا کہ ”محمد علی واپس ہندوستان جاﺅ اور وہاں مسلمانوں کی قیادت کرو“قائد اعظم نے یہ خواب سنا کر مولانا شبیر احمد عثمانی کو تاکید فرمائی تھی کہ یہ خواب میری زندگی میں کسی پر آشکارہ مت کرنا ،میں یہ خواب دیکھنے کے فوراََبعد ہندوستان آگیا۔
یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم نے پاکستان کے نظام میں مغربی جمہوریت کی کئی بار نفی فرمائی۔قائد اعظم کی تقاریر اٹھا کر دیکھ لیں ہمیں ہر بیان میں اسلام اور قرآنی نظام کی جھلک دکھائی دیتی ہے (علامہ شبیر احمد عثمانی ) …..

حوالہ نمبر 6

آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے اجلاس منعقدہ 15 نومبر 1942 ء میں قائد اعظم نے وہ بصیرت افروز اور چشم کشا خطاب کیا جس کی ضیا باری سے آج بھی تاریخ پاکستان روشن ہے۔ قائد اعظم نے فرمایا :
” مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرز حکومت کیا ہوگا؟ پاکستان کے طرز حکومت کا تعین کرنے والا میں کون ہوتا ہوں۔ مسلمانوں کا طرز حکومت آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن کریم نے وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا تھا۔ الحمد للہ ، قرآن مجید ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہے اور قیامت تک موجود رہے گا “​……

حوالہ نمبر 7

6دسمبر 1943 کو کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے 31 ویں اجلاس سے خطاب کے دوران قائد اعظم نے فرمایا:-
” وہ کون سا رشتہ ہے جس سے منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں ، وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے ، وہ کون سا لنگر ہے جس پر امت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے ؟ وہ رشتہ ، وہ چٹان ، وہ لنگر اللہ کی کتاب قرانِ کریم ہے۔ مجھے امید ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے ، قرآنِ مجید کی برکت سے ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا۔ ایک خدا ، ایک کتاب ، ایک رسول ، ایک امت…… “

حوالہ نمبر 8

قائد اعظم نے 17 ستمبر 1944ء کو گاندھی جی کے نام اپنے ایک خط میں تحریر فرمایا:
” قرآن مسلمانوں کا ضابطہ حیات ہے۔ اس میں مذہبی اور مجلسی ، دیوانی اور فوجداری ، عسکری اور تعزیری ، معاشی اور معاشرتی سب شعبوں کے احکام موجود ہیں۔ یہ مذہبی رسوم سے لے کر جسم کی صحت تک ، جماعت کے حقوق سے لے کر فرد کے حقوق تک ، اخلاق سے لے کر انسدادِ جرائم تک ، زندگی میں سزا و جزا سے لے کر آخرت کی جزا و سزا تک غرض کہ ہر قول و فعل اور ہر حرکت پر مکمل احکام کا مجموعہ ہے۔ لہذا جب میں کہتا ہوں کہ مسلمان ایک قوم ہیں تو حیات اور مابعد حیات کے ہر معیار اور پیمانے کے مطابق کہتا ہوں……”

حوالہ نمبر 9

10 ستمبر 1945 ء کو عید الفطر کے موقع پر قائد اعظم نے فرمایا :
” ہمارا پروگرام قرآنِ کریم میں موجود ہے۔ تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ قرآن غور سے پڑھیں۔ قرآنی پروگرام کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ مسلمانوں کے سامنے کوئی دوسرا پروگرام پیش نہیں کر سکتی….”

حوالہ نمبر 10

1947 ء کو انتقالِ اقتدار کے موقع پر جب حکومت برطانیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے لارڈ ماونٹ بیٹن نے اپنی تقریر میں کہا کہ :
” میں امید کرتا ہوں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہوگا اور ویسے ہی اصول پیش نظر رکھے جائیں گے جن کی مثالیں اکبر اعظم کے دور میں ملتی ہیں “
تو اس پر قائد اعظم نے برجستہ فرمایا :
” وہ رواداری اور خیر سگالی جو شہنشاہ اکبر نے غیر مسلموں کے حق میں برتی کوئی نئی بات نہیں۔ یہ تو مسلمانوں کی تیرہ صدی قبل کی روایت ہے۔ جب پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہودیوں اور عیسائیوں پر فتح حاصل کرنے کے بعد ان کے ساتھ نہ ّ صرف انصاف بلکہ فیاضی کا برتاو کرتے تھے…. مسلمانوں کی ساری تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ہم پاکستانی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں ہی پاکستان کا نظام چلائیں گے….”

حوالہ نمبر 11

2 جنوری 1948 ء کو کراچی میں اخبارات کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے قائد اعظم نے ارشاد فرمایا :
” اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت اور وفا کا مرکز اللہ تعالی کی ذات ہے جس کی تعمیل کا عملی ذریعہ قرآن کے احکام و اصول ہیں۔ اسلام میں اصلا نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے نہ پارلیمنٹ کی نہ کسی شخص یا ادارے کی۔ قرآن کریم کے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدیں مقرر کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسلامی حکومت قرآنی احکام و اصولوں کی حکومت ہے ….”

حوالہ نمبر 12

14 فروری 1948 ء کو قائد اعظم نے بلوچستان میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا :
” میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات کا واحد ذریعہ اس سنہری اصولوں والے ضابطہ ء عمل میں ہے جو ہمارے عظیم واضع قانون پیغمبر اسلام نے ہمارے لیے قائم کر رکھا ہے۔ ہمیں اپنی جمہوریت کی بنیادیں سچے اخلاقی اصولوں اور تصورات پر رکھنی چاہئیں۔ اسلام کا سبق یہ ہے کہ مملکت کے امور و مسائل کے بارے میں فیصلے باہمی بحث و تمحیص اور مشوروں سے کیا کرو…. “

حوالہ نمبر 13

25 جنوری 1948 ء کراچی بار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :-
” آج ہم یہاں دنیا کی عظیم ترین ہستی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نذرانہ ء عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عزت و تکریم کروڑوں عام انسان ہی نہیں کرتے بلکہ دنیا کی تمام عظیم شخصیات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سر جھکاتی ہیں۔ وہ عظیم مصلح تھے ، عظیم رہنما تھے ، عظیم واضع قانون تھے ، عظیم سیاستدان تھے اور عظیم حکمران تھے ، ہم ان کی تعلیمات پر عمل کرتے رہے تو کسی میدان میں کبھی بھی ناکامی نہ ہوگی…”

حوالہ نمبر 14

30 جولائی 1948 ء کو لاہور میں اسکاوٹ ریلی سے کیا تھا۔ آپ نے فرمایا :
” میں نے بہت دنیا دیکھ لی۔ اللہ تعالی نے عزت ، دولت ، شہرت بھی بے حساب دی۔ اب میری زندگی کی ایک ہی تمنا ہے کہ مسلمانوں کو باوقار و سر بلند دیکھوں۔ میری خواہش ہے کہ جب مروں تو میرا دل گواہی دے کہ جناح نے اللہ کے دین اسلام سے خیانت اور پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت سے غداری نہیں کی۔ مسلمانوں کی آزادی ، تیظیم ، اتحاد اور مدافعت میں اپنا کردارٹھیک ٹھیک ادا کیا اور میرا اللہ کہے کہ اے میرے بندے! بے شک تو مسلمان پیدا ہوا۔ بے شک تو مسلمان مرا…. “

حوالہ نمبر 15

4 فبروری 1948ء کو سبی میں خطاب کے دوران یہ واضح ترین الفاظ بھی ارشاد فرمائے :
میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات کا واحد ذریعہ اس سنہری اصولوں والے ضابطہ حیات پر ہے جو ہمارے عظیم واضعِ قانون پیغمبرِ اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے لیے قائم کر رکھا ہے ۔ ہمیں اپنی جمہوریت کی بنیادیں سچے اسلامی اصولوں اور تصورات پر رکھنی چاہئیں ۔ اسلام کا سبق یہ ہے کہ مملکت کے امور و مسائل کے بارے میں یہ فیصلے باہمی بحث و تمحیص اور مشوروں سے کیا کرو …..

It is my belief that our salvation lies in following the golden rules of conduct set for us by ou great law-giver, the Holy Prophet of Islam (peace be upon him). Let us lay the foundation of our democracy on the basis of truly Islamic ideals and principles. Our Almighty has taught us that “our decisions in the affairs of the State shall be guided by discussions and consultations”.​
Tribal Politics in Baluchistan – Ch.-III:Tribal attitude towards Pakistan, P:56….

حوالہ نمبر 16

خواجہ اشرف احمد بیان کرتے ہیں کہ ’’3مارچ1941ء کو لاہور ریلوے اسٹیشن کے سامنے آسٹریلیا مسجد میں نماز عصر ادا کرنا تھی، جب قائد تشریف لائے تو مرزا عبدالحمید تقریر کررہے تھے، مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، قائد موٹرکار سے برآمد ہوئے تو انہوں نے اچکن، چوڑی دار پاجامہ اور بٹلر شوز پہن رکھے تھے، اُن کی آمد پر لوگوں میں ہلچل پیدا ہوئی، لیکن وہ فوراً سنبھل گئے کہ قائد اعظم نظم و ضبط کے انسان تھے، وہ مسجد کے بغلی دروازے میں داخل ہوئے، اگلی صف تک راستہ بن گیا،لیکن قائد نے یہ کہتے ہوئے اگلی صف میں جانے سے انکار کر دیا ’’میں آخر میں آیا ہوں اس لئے یہیں بیٹھوں گا۔‘‘ سیاست میں آگے جانے والا خانۂ خدا میں سب سے پیچھے بیٹھا، نماز سے فارغ ہونے پر قائد نے جو کام فوراً کیا وہ یہ کہ اپنے جوتے اٹھا لئے، ہرکسی کی خواہش تھی کہ وہ قائد کے جوتے اُٹھانے کی سعادت حاصل کرے، لیکن ہرکسی کی حسرت ہی رہی، لوگ بعد میں اُن کے ہاتھ سے جوتے چھیننے کی کوشش ہی کرتے رہے، لیکن قائد کی گرفت آہنی تھی، وہ ہجوم میں اپنی ریشمی جرابوں سمیت کوئی تیس قدم بغیر جوتوں کے چلے اور اصرار اور کوشش کے باوجود کسی شخص کو اپنا جوتا نہیں پکڑایا۔…”

حوالہ نمبر 17

” جارج ششم شاہ انگلستان کے زمانے میں ہندوستان کے لئے مزید اصلاحات کے سلسلے میں قائداعظم لندن تشریف لے گئے، مذاکرات جاری تھے کہ قصر بکنگھم سے ظہرانے کی دعوت موصول ہوئی، اُس زمانے میں قصر بکنگھم کی دعوت ایک اعزاز ہی نہیں بلکہ یادگار موقع ہوتا تھا لیکن قائداعظمؒ نے یہ کہہ کر اِس دعوت میں شرکت کرنے سے معذرت کرلی کہ ’’آجکل رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہے اور اِس میں مسلمان روزے رکھتے ہیں..”

حوالہ نمبر 18

دہلی مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کا جلسہ امپیریل ہوٹل میں ہو رہا تھا، خاکساروں نے گڑبڑ کی، سارا ہنگامہ قائد اعظم کے خلاف تھا، لیکن سارے ہنگامے میں جو شخص سب سے پرسکون رہا، وہ خود قائداعظمؒ تھے،جب میٹنگ انتشار کا شکار ہو کر ختم ہو گئی تو وہ بڑے اطمینان سے تنہا باہر جانے لگے، یہ دیکھ کر پیرآف مانکی شریف نے آپ سے کہا، آپ اِس طرح باہر نہ جایئے، کہیں آپ کو کچھ ہو نہ جائے، ہم آپ کے ساتھ چلتے ہیں، قائداعظمؒ نے کہا نہیں، اِس کی ضرورت نہیں اور آسمان کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے کہا، کیا وہ (خدا) وہاں نہیں…….؟

حوالہ نمبر 19

اسی طرح 1946ء میں جب قائداعظم شملہ تشریف لے گئے تو بعض لیگی کارکنوں نے محسوس کیا کہ قائداعظمؒ کے لئے خصوصی حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے، ایک کارکن نے آپ سے کہا جناب ہمیں معلوم ہے کہ دشمن آپ کی جان کے درپے ہیں، اس لئے اجازت دیجئے کہ ضروری حفاظتی اقدامات کئے جائیں، جس پر قائداعظم رح نے فرمایا مجھے اللہ کی ذات پر بھروسہ ہے، خدا ہی سب سے بڑا محافظ اور چارہ ساز ہے، آپ فکر مند نہ ہوں…”

حوالہ نمبر 20

قائداعظمؒ کے معالج ٹی بی اسپیشلسٹ ڈاکٹر ریاض علی شاہ لکھتے ہیں کہ ’’ایک بار دوا کے اثرات دیکھنے کے لئے ہم اُن کے پاس بیٹھے تھے،میں نے دیکھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں، لیکن ہم نے اُن کو بات چیت سے منع کر رکھا تھا، اس لئے الفاظ لبوں پر آکر رک جاتے تھے، اِسی ذہنی کشمکش سے نجات دلانے کے لئے ہم نے خود انہیں بولنے کی دعوت دی، تو وہ بولے، ’’تم جانتے ہو،جب مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکا ہے تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے، یہ مشکل کام تھا اور میں اکیلا اِسے کبھی نہیں کر سکتا تھا، میرا ایمان ہے کہ یہ رسول اللہﷺ کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آیا، اب یہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اِسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں، تاکہ خدا اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمین کی بادشاہت دے، پاکستان میں سب کچھ ہے، اِس کی پہاڑیوں، ریگستانوں اور میدانوں میں نباتات بھی ہیں اور معدنیات بھی، انہیں تسخیر کرنا پاکستانی قوم کا فرض ہے، قومیں نیک نیتی، دیانت داری،اچھے اعمال اور نظم و ضبط سے بنتی ہیں اور اخلاقی برائیوں، منافقت، زر پرستی اور خود پسندی سے تباہ ہوجاتی ہیں…..‘‘

حوالہ نمبر 21

یکم جولائی 1948 ء کو سٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا :
” میں اشتیاق اور دل چسپی سے معلوم کرتا رہوں گا کہ آپ کی ریسرچ آرگنائزیشن بینکاری کے ایسے طریقے کس خوبی سے وضع کرتی ہے جو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات کے مطابق ہوں۔ مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے بے شمار مسائل پیدا کر دیے ہیں اکثر لوگوں کی یہ رائے ہے کہ مغرب کو اس تباہی سے کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ یہ تباہی مغرب کی وجہ سے ہی دنیا کے سر منڈلا رہی ہے۔ مغربی نظام انسانوں کے مابین انصاف اور بین الاقوامی میدان میں آویزش اور چپقلش دور کرنے میں ناکام رہا ہے….
مغرب کے اقتصادی نظام پر تنقید کرتے ہوئے اسی خطاب میں آپ نے فرمایا:-
” اگر ہم نے مغرب کا معاشی نظریہ اور نظام ہی اپنا لیا تو عوام کی خوشحالی حاصل کرنے کے لیے ہمیں کوئی مدد نہ ملے گی۔ اپنی تقدیر ہمیں اپنے منفرد انداز میں بنانا پڑے گی۔ ہمیں دنیا کے سامنے ایک مثالی معاشی نظام پیش کرنا ہے جو انسانی مساوات اور معاشی انصاف کے سچے اسلامی تصورات پر قائم ہو۔ ایسا نطام پیش کر کے ہم بحیثیت مسلمان اپنا مشن پورا کریں گے۔ انسانیت کو حقیقی امن کا پیغام دیں گے۔ صرف ایسا امن ہی انسانیت کو جنگ سے بچا سکتا ہے۔ صرف ایسا امن ہی بنی نوع انسان کی خوشی اور خوشحالی کا امین و محافظ ہے…..”

یہ اسٹیٹ بینک کی تقریر قائداعظم رح کی آخری تقریر تھی جس میں اصول بتا گئے ,آپکے سامنے اتنی تقیریروں کے حوالیں دییے کسی ایک تقریر میرا دعویٰ ہے سیکیولر لبرل پیش نہیں کرسکتا جس میں لفظ سیکیولر ہو, اور ہزاروں حوالے ہیں جس میں اسلام موجود ہے…

سیکیولر لبرلرز اس 11 آگسٹ کی تقریر کو اٹھاتے ہیں اور اسے توڑ مروڑ کے پیش کرتے ہیں جب کہ وہ قائد کے تقریر کا کوئی رکارڈ موجود نہیں اور اگر وہ تقریر ہے بھی تو اس میں سیکیولر لفظ ہی نہیں اور وہ تقریر میثاق ِ مدینہ Charter of Medina کی کاپی ہے جس میں اقلیتوں کے حقوق بتائے گئے ہیں, جو در حقیقت اسلام ہی ہے…

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

بھارت کی خفیہ جنگی تیاری یا پھرخوف کا سدباب

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے یہ خبر دی ہے کہ بھارت بڑی تعداد میں …

error: Content is protected !!