Home / Pakistan Army / پاکستان کو خفیہ معلومات پیچنے اور پاکستان کے ہی ایٹمی پروگرام کی تفصیلات اسرائیل کو فراہم کرنے والا یہودی

پاکستان کو خفیہ معلومات پیچنے اور پاکستان کے ہی ایٹمی پروگرام کی تفصیلات اسرائیل کو فراہم کرنے والا یہودی

جوناتھن 1954 میں ٹیکساس (امریکہ) میں ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوا۔ اُس کا والد ایک مائیکرو بیالوجسٹ تھا۔ شروع سے اُسے اسرائیل سے محبت اور عرب لوگوں اور عرب ممالک سے دشمنی سکھائی گئی۔

1970ءمیں پہلی دفعہ وہ دیگر سٹوڈنٹس کے ساتھ اسرائیل بھی گیا۔ بعد ازاں اُس نے سٹین فورڈ یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ڈگری لی اور 1979ءمیں سی آئی اے اور امریکی نیوی کے لئے نوکری کی تلاش شروع کر دی۔ سی آئی اے تو نہیں مگر نیوی نے اُسے بغیر کسی بیک گراونڈ چیک کئے نوکری دے دی۔ آہستہ آہستہ اُس کی مشکوک حرکتیں سامنے آنے لگیں۔ وہ اپنے آپ کو نفسیاتی مرض میں مبتلا کہنے لگا مگر نفسیاتی ڈاکٹر نے تفصیلی معائنے کے بعد اُسے بالکل صحت مند قرار دے دیا۔

1984ءمیں نیوی نے ایک بار پھر تجزیہ کار کے طور پر اپنے انٹیلی جنس یونٹ میں اُسے ذمہ داری دے دی۔ کچھ ہی دنوں بعد اُس کی ملاقات اسرائیلی ایئر فورس کے ایک کرنل “AVIEM SELLA” سے ہوئی جو نیویارک یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کی ڈگری کے لئے زیر تعلیم تھا، اُس کرنل نے جوناتھن پولارڈ سے کلاسیفائیڈ (خفیہ) معلومات حاصل کرنا شروع کر دیں اور اُسے دس ہزار ڈالر کے علاوہ ایک قیمتی ہیرے کی انگوٹھی بھی دی جو بعد ازاں اُس نے اپنی بیوی کو منگنی کے موقع پر دی۔

پھر اُس کو پندرہ سو ڈالر ماہانہ بھی دینے کا آغاز کر دیا گیا۔ پولارڈ نے اسرائیل کو متعدد ایشوز کے حوالے سے لاکھوں دستاویزات بیچیں حتیٰ کہ نیوی کے انوسٹی گیشن افسر RONALD OLIVE کے مطابق اُس نے پاکستان کو بھی خفیہ معلومات فروخت کیں اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے متعلق تفصیلات اسرائیل کو فراہم کیں۔ اس کے علاوہ اُس نے چین کے متعلق بھی بے شمار دستاویزات چُرائیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ اُس نے دس جلدوں پر مشتمل امریکہ کے گلوبل سرویلنس نیٹ ورک کی بھی تمام معلومات اسرائیل کو دے دیں۔

1985ءمیں اُس کے ایک ساتھی کو اُس کی سرگرمیاں مشکوک لگیں تو اُس نے شکایت کی اور پھر مانیٹرنگ کے ذریعے اُس کی حرکات و سکنات پر پہرے بٹھا دئیے گئے۔
آہستہ آہستہ معاملات واضح ہونے لگے لیکن ثبوت نہیں مل رہے تھے۔ اُس کے انٹریو کے دوران ایک دن اُس نے اپنی بیوی سے کوڈ ورڈ “CACTUS” استعمال کیا جس کا مفہوم یہ تھا کہ وہ خطرے میں ہے اور تمام دستاویزات غائب کر دی جائیں۔ اُس نے وہی کیا اور اپنے ہمسائے کے گھر میں انہیں رکھوا دیا جس نے بعد میں کیس کے عام ہونے پر خود پولیس کو بُلا کر یہ دستاویزات حوالے کر دیں۔ 21 نومبر 1985ءکو اسرائیلی سفارت خانے کے گیٹ سے اندر داخل ہونے سے قبل اُسے گرفتار کر لیا گیا جہاں وہ سیاسی پناہ کے لئے داخل ہونا چاہ رہا تھا۔

بعد ازاں اُس نے اعتراف جرم کر لیا اور اُسے عمر قید کی سزا سُنا دی گئی۔ اُس کی بیوی کو بھی گرفتار کر لیا گیا لیکن اُسے بعد ازاں خرابی صحت کی بنا پر رہا کر دیا گیا اور وہ اسرائیل چلی گئی۔ اُس کے اعتراف جرم کی ایک وجہ یہ تھی کہ اُسے کاغذات چوری کرتے ہوئے کیمرے کی آنکھ نے پکڑ لیا تھا اور یہ ویڈیو آج بھی امریکی چینل این بی سی کے پاس موجود ہے۔
Pakistan Israel spy

جوناتھن پولارڈ پر صرف ایک الزام لگایا گیا ”غیر ملک کے لئے جاسوسی“ گزشتہ 27 سالوں میں ہر اسرائیلی حکومت اُس کی رہائی کے لئے امریکی حکومت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ 1995ءمیں اُسے اسرائیلی شہریت بھی دے دی گئی مگر امریکہ کی طرف سے آج تک اُسے رہا نہیں کیا گیا۔

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

جنرل اسد درانی کا اصل چہرہ : زید حامد

جنرل درانی کی کتاب پر مجھے کوئی تجزیہ کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے …

error: Content is protected !!