Home / Pakistan Navy / خطرناک نیول مائنز کا جنگ میں کردار اور انکی اقسام

خطرناک نیول مائنز کا جنگ میں کردار اور انکی اقسام

نیول مائنز یا پانی کی بارودی سرنگیں ۔
یہ 7 قسم کی ہوتی ہیں اور ہر ایک کی اپنی گہرائی اور کام ہوتا ہے.

پہلی سطح سمندر پر ہوتی ہے جو کہ پانی پر تیرتی رہتی ہے اور جیسے ہی کوئی جہاز اس کے قریب جائے یہ بلاسٹ ہو کر اسے تباہ کر دیتی ہے ۔ دوسری جسے بوٹم کہتے ہیں پانی میں کم گہرائی پر ہوتی ہے جو کہ سب سے زیادہ استعمال کی جاتی ہے اور تباہ کن ہے۔
تیسری جسے ایس ایس کہتے ہیں یہ پانی کے نیچے یعنی گہرائی میں لگائی جاتی ہے اور یہ آبدوزوں کو تباہ کرتی ہے۔ چوتھی کو ڈرفٹنگ مائن کہتے ہیں اور یہ پانی کے نیچے گہرائی میں پر سمندر کی تہہ سے اوپر ہوتی ہے جس سے گہرائی میں موجود آبدوزوں کا شکار کیا جاتا ہے۔

پانچویں بوٹم مائن کی دوسری قسم ہی ہے جسے سمندر میں تہہ پر بٹھا دیا جاتا ہے اور وہ مقناطیسی ہوتی ہے جیسے ہی کوئی جہاز یا آبدوز نزدیک آئے یہ اسے پکڑ لیتی ہے اور اسے ہٹانا بہت مشکل ہے۔ چھٹی تورپیڈو مائن ہوتی ہے جسے کیپٹر مائن بھی کہا جاتا ہے یہ ایک وائر سے بندھی درمیانی گہرائی میں ایک طرح سے معلق ہوتی ہے۔ ساتویں رائزنگ مائن ایسی ہی ہوتی ہے پر جیسے ہی ٹارگٹ نزدیک آئے اس کی وائر اسے چھوڑ دیتی ہے۔
Pakistan Navy Weapons

یہ مائنز ہر قسم کے جہازوں کے لیئے خطرہ ہوتی ہیں ۔یہ مائنز کم خرچ میں دشمن کو بھاری نٖقصان دے سکتی ہیں ۔ 1 ہزار یا 5 ہزار ڈالر کی بنی مائن کئی سو ملین کا نقصان کر سکتی ہیں ۔ان کو مقناطیسی بنایا جاتا ہے جو کہ لوہے کے بنے جہازوں اور آبدوزوں سے چپک کر انہیں تباہ کردیتی ہیں۔ اس کے علاوہ سینسر والی مائنز انٹیلیجنٹ ہوتی ہیں جو ٹارگٹ کو دیکھ بھال کر تباہ کرتی ہیں۔

مائنز کی ایک اور قسم جو کہ جہاز کے قریب آنے سے جو لہریں پیدا ہوتی ہیں ان لہروں کے حساب سے بلاسٹ ہوتی ہے ۔ یہ سمندر میں چھپی موت ہوتی ہے جو کہ اندھی ہوتی ہے اور سول اور ملٹری کا فرق نہیں جانتی، یہ ہوائی جہازوں سے بھی پلانٹ کی جاتی ہے۔

ان مائنز کو سمندری راستوں، باقی سمندری علاقوں یا پھر ریڈار کے پرانے ڈیٹا کی مدد سے دشمن کی آمد و رفت کے علاقوں کا پتہ لگا کر بچھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دشمن کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے بھی ان مائنز کو بچھایا جاتا ہے۔ اگر سمندر کے قریب اہم تنصیبات ہوں، جیسے کہ پاکستان کا کراچی میں نیوکلیئر پاور کمپلیکس، تو ایسی تنصیبات کی حفاظت کے لیے کچھ خاص قسم کے مائنز ساحل سمندر میں بھی بچھائے جاتے ہیں۔

اے ایم ایس مائنز سوییپرز کی عمر پوری ہونے پر پاکستان نے اس وقت 3 دنیا کے سب سے بہترین مائنز سوییپر خرید لیئے ہیں ۔ یہ فرانس بیلجیم اور نیدر لینڈ کے مشترکہ بنے ہوئے ہیں اور ان میں جدید ترین سنسرز اور کمپیوٹرز نصب ہیں یہ ہر طرح کی مائنز کو تبا کرنے ڈیفیوز کرنے اور ہٹانے کا کام کر سکتے ہیں ان کو بنانے میں کم سے کم لوہا اور فولاد استعمال کیا گیا۔

ان کو بناتے ہوئے انجن اور جہاز کی آواز اور ارتاش کا بھی خاص خیال رکھا گیا تا کہ یہ مائنز کے قرب جا کر بھی انہیں بلاسٹ نا ہونے دیں ۔ان میں جیمرز بھی لگے ہیں۔ یہ نہایت چھوٹی آبدوزین اور بوٹس بھی ساتھ لے جا سکتے رکھتے ہیں جن کی مدد سے سطح سمندر اور زیر سمندر مائنز سویپنگ کرتے ہیں۔
Pakistan Navy New Weapons

یہ پاکستان کے بحری راستوں پر ہر وقت گشت کرتے ہیں تا کہ کسی فاؤل پلے سے اپنی نیوی اور میری ٹائم سول جہازوں کو بچایا جا سکے۔ یہ 170 فٹ لمبے ہیں اور ان پر 38 افراد سوار ہوتے ہین اور یہ 28 کلو میٹر کی رفتار سے چلتے ہیں۔ان پر خود کی حفاظت کے لیے گنز بھی نصب ہیں ۔

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

پاک بحریہ خود کفالت کی طرف بڑھ رہی ہے

بحری قوت بڑھاکر اپنے ساحلوں کی حفاظت کرنے والے ملکوں کو سمندروں پر بھی اجارہ …

error: Content is protected !!