Home / Pakistan Army / پاکستان آرٹلری میں خودکار ہاوٹزر

پاکستان آرٹلری میں خودکار ہاوٹزر

پاکستان کے دفاع میں آرٹلری کا کردار انتہائی اہم رہا ہے, یوں تو پاکستان کی آرٹلری میں بہت سے ہتھیار اور توپیں شامل ہیں مگر “M110 Howitzer” کا کردار نمایاں ہے۔ اسے دیکھنے سے ہی اندازہ لگایاجا سکتا ہے کہ یہ ایک زبردست تباہی پھیلا دینے والا ہتھیار ہے۔
pak army weapons

پاکستان کے پاس “M110 Howitzer” کی تعداد 60 ہے, جبکہ اسی طرح کی ایک دوسری “Howitzer” بھی پاکستان آرمی کے زیر استعمال ہے جو کہ “M109 ” ہے, پاک فوج کی پاس “M109 ” کی تعداد 150 سے بھی زیادہ ہے ۔ یہ دونوں “Howitzers” امریکی ساختہ ہیں۔

یہ ” Howitzers ” اس طرح سے بھی باقی توپوں سے خاص ہیں کہ باقی توپوں کو کسی دوسری گاڑی کی مدد سے متعلقہ جگہ پر لے جایا جاتا ہے۔ جبکہ یہ “Howitzers” خود جنگی ٹینکوں کی مانند دوڑ سکتی ہیں۔ “M109 ” کی رینج 350 کلو میٹر کے لگ بھگ ہے جبکہ “M110 ” تقریبا 523 کلو میٹر دور جا کر گولے داغ سکتی ہے, ان دونوں ” Howitzers ” کی رفتار 54 سے 56 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔

“M109 ” کے ساتھ 6 جبکہ “M110 ” کے ساتھ 13 افراد پر مشتمل عملہ ہوتا ہے، یہ ” Howitzers ” تقریبا 18 سے 30 کلومیٹر دور تک گولہ انتہائی درستگی سے داغ سکتی ہیں، یہ دونوں ” Howitzers ” خودکار ہیں یعنی فائر کرنے کے لیے گولے کو خود لوڈ کرتی ہیں اور دو منٹوں میں تین گولے فائر کر سکتی ہیں۔
Pakistan military modernization

ان ” Howitzers ” کا گولہ بارود پاکستان آرڈیننس فیکٹری میں تیار ہوتا ہے،
یہاں میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ امریکہ “M110 ” کے ذریعے روایتی گولوں کے علاوہ ٹیکٹیکل نیوکلیئر شیلز بھی دشمن پر گرانے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے، جو کہ چھوٹے نیوٹرون بم ہوتے ہیں، یہی چھوٹے بم پاکستان اپنے نصر میزائلوں میں استعمال کرتا ہے جو کہ ٹیکٹیکل نیوکلیئر ویپن کہلاتے ہیں، ان نیوٹرون بموں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ جہاں استعمال کیے جائیں وہاں تابکاری نہیں پھیلتی اور وہ جگہ حملے کے فوراً بعد قابل استعمال ہو جاتی ہے۔

امریکہ ان نیوٹرون بموں کو زیادہ تر اپنی آرٹلری کے ذریعے استعمال کرتا ہے جن کی رینج 18 سے 30 کلومیٹر تک ہے جبکہ پاکستان انہیں نصر میزائل کی مدد سے 70 کلومیٹر دور تک ہدف پر انتہائی درستگی کے ساتھ داغ سکتا ہے۔

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

جنرل اسد درانی کا اصل چہرہ : زید حامد

جنرل درانی کی کتاب پر مجھے کوئی تجزیہ کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے …

error: Content is protected !!