Home / International / انسانی نروس سسٹم کو برباد کرنے والے کیمیائی ہتھیار

انسانی نروس سسٹم کو برباد کرنے والے کیمیائی ہتھیار

دورِ جدید میں ایسے ایسے بھیانک کیمیائی ہتھیار تخلیق کیے جا چکے ہیں جن کا استعمال کسی بھی جنگ، فوجی آپریشن یا دہشت گردوں کے خاتمہ کے لیے کی جانے والی کسی بھی کارروائی کا نہ صرف پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ دشمن کو انتہائی تکلیف دہ اور بھیانک، عبرت ناک موت سے بھی دوچار کرتے ہیں۔

کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کو جواز بنا کر کئی ممالک کے خلاف نہ صرف جنگی کارروائی کی گئی بلکہ اب بھی کچھ ممالک پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ رکھنے کا الزام لگا کر امن کے نام نہاد ٹھیکیدارران ممالک جارحیت کے لیے پرتول رہے ہیں۔
Biological Effects

یعنی کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیاروں کو عملی جنگ و جنگی آپریشن میں استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ پروپیگنڈا کے طور پر بھی بطور ایک انتہائی مؤثر ہتھیار بخوبی استعمال کیا گیا ہے۔ پاکستان آرمی پر بھی اکبربگٹی کی ہلاکت کے دوران ہونے والے آپریشن میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام تواتر سے لگایا گیا۔ جس کی تردید پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ کی۔ کیمیائی ہتھیاروں کا عملی استعمال بھی ہوا۔ اسے مختلف ممالک اور ان کی افواج کو بدنام کرنے کے لیے اور اُن کے خلاف جنگ و پابندیاں لگانے کے لیے ایک جواز پیدا کرنے کے لیے بھی اکثر استعمال کیا گیا۔

چند بڑے بڑے اور بدنام زمانہ کیمیائی ہتھیاروں کا ذکر کیا جائے تو سب سے پہلے انسانی دماغ پر اثر کرنے والے کیمیائی ہتھیاروں کا ذکر اہمیت کا حامل ہے۔ انسانی دماغ کی پورے جسم میں ایک خاص اہمیت ہے۔ دوران جنگ انسان کے سوچنے، سمجھنے، فیصلہ کرنے اور کوئی بھی عمل کرنے کی صلاحیت کا دارومدار اُس کے دماغ پر ہوتا ہے۔ سیرین، سومان، سائیکلوسیرین اور تابون یہ ایسے کیمیائی ہتھیار ہیں جو انسان کے ’’نروس سسٹم‘‘ کو اپنا نشانہ بناتے ہیں۔

دوسرے نمبر پر جلد کو جلا دینے والے کیمیائی ہتھیار ہیں۔ ’’بلسٹرنگ ایجنٹ ‘‘ نامی یہ کیمیائی ہتھیار جن میں ’’مسٹرڈگیس‘‘ شامل ہے۔ مخالف افواج کو جلا کر بھسم کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسرائیل نے مصری افواج کے خلاف ہونے والی دونوں بڑی جنگوں میں اِن بھیانک کیمیائی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا۔
Biological Weapons Effects

کیمیائی ہتھیاروں کی ایک اور بھیانک قسم سانس روک کر انتہائی دردناک موت سے دوچار کرنے والے کیمیکلز کلورین اور فاسجین وغیرہ شامل ہیں۔ ان کیمیائی ہتھیاروں کا شکار بننے والے کی سانس کی نالی بند ہوجاتی ہے اور دم گھٹنے سے وہ انتہائی بھیانک موت کا شکار ہوجاتا ہے۔

ایسے کیمیائی ہتھیار بھی ہیں جن کے شکار افراد پر ایسے اثرات مرتب ہوتے ہیں جیسے لقوے/ فالج کا شکار ہوگئے ہوں۔ اچھا خاصا تندرست انسان اِن ہتھیاروں کے اثر کی وجہ سے کوئی بھی حرکت کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ ایسے کیمیائی ہتھیاروں کو دہشت گردوں پر قابو پانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک کیمیائی ہتھیار ایسا بھی ہے جس کا شکار انسان اُلٹیاں (Vomiting) کرکے نڈھال، بے حال اور اگر طبی امداد نہ ملے تو موت سے بھی دوچار ہو سکتا ہے۔

آخر میں ذکر ہوجائے ایسے کیمیائی ہتھیار کا جس کا استعمال اکثروبیشتر احتجاجی جلسوں کو منتشر کرنے کے لیے اپنے ہی عوام اور ہم وطنوں کے خلاف کیا جاتا ہے۔ وہ کیمیائی ہتھیار ہے ’’آنسوگیس۔‘‘ اس کے استعمال سے متاثرہ شخص اور جلوس جو قابو سے باہر ہو گیا ہو کو قابو میں کیا جاتا ہے۔ جیسے جیسے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ سائنسدان اُن کا توڑ نکالنے کے ساتھ ساتھ پہلے سے زیادہ بھیانک اور مؤثر کیمیائی ہتھیار بنانے میں دن رات مصروف و مگن ہیں۔
Chimerical Weapons

اب روایتی جنگ میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ایک ایسا مؤثر ہتھیار ہے جو مخالف دشمن کو سنبھلنے کاکوئی موقع نہیں دیتا۔ ایسے ایسے جدید کیمیائی ہتھیار تیار کیے جا چکے ہیں جن کا استعمال انسانیت کے لیے بہت ہی تکلیف دہ اور بھیانک موت کی صورت میں ہی نکلتا ہے.

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

بھارت کی خفیہ جنگی تیاری یا پھرخوف کا سدباب

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے یہ خبر دی ہے کہ بھارت بڑی تعداد میں …

error: Content is protected !!