Home / International / کیا اسرائیلی لڑاکا طیارے ایف 35 کو شام میں روسی ساختہ طیارہ شکن میزائل نے متاثر کیا ہے؟

کیا اسرائیلی لڑاکا طیارے ایف 35 کو شام میں روسی ساختہ طیارہ شکن میزائل نے متاثر کیا ہے؟

حال ہی میں اسرائیلی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ “F-35” جو کہ امریکہ سے حاصل کیا گیا تھا دوران پرواز بری طرح متاثر ہوا،جو کہ شام میں ایک مشن پر تھا۔

اس حادثے کے بعد روسی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں اسرائیلی فضائی حملے کے دوران روسی ساختہ طیارہ شکن میزائل سسٹم “S-200” کے ریڈار نے “F-35” لڑاکا طیارے کو دیکھ لیا جس کے بعد طیارہ شکن میزائل فائر کیا گیا جس کے نتیجے میں امریکی ساختہ اسرائیلی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ “F-35″بری طرح متاثر ہو گیا ہے۔
F 35 hit By Russian Missile

روسیوں کے اس دعوے کے بعد اسرائیلیوں نے اس کی تردید کردی اور کہا کہ دراصل یہ طیارہ پرندے کے ٹکرانے کی وجہ سے متاثر ہوا ہے،
اس کے علاوہ اسرائیل کا یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے دمشق کے قریب ایک روسی طیارہ شکن میزائل سسٹم کی بیٹری کو تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ جوابی حملہ نہیں کیا گیا۔

تبصرہ

اس سارے واقعے سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے روسی ساختہ طیارہ شکن میزائل سسٹم کو نشانہ بنایا ہے مگر جوابی حملے میں اسرائیل کے لڑاکا طیارے “F-35” کو بھی اچھا خاصا نقصان اٹھانا پڑا، یاد رہے “F-35” لڑاکا طیارے کو دنیا کا بہترین اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ سمجھا جاتا ہے اور امریکہ کا یہ دعویٰ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ریڈار اس لڑاکا طیارے کو نہیں پکڑ سکتا جبکہ “S-200” طیارہ شکن میزائل سسٹم روس کا بنایا ہوا ہے اس میزائل سسٹم کو پہلی بار 1967 میں روسی دفاع کا حصہ بنایا گیا تھا.
S 200 Sam Hit Israeli F-35

اس میزائل سسٹم کو دنیا کے تقریباً 26 ممالک استعمال کرتے ہیں،اگر روس کے اس “نصف صدی” پرانے طیارہ شکن میزائل سسٹم نے واقعی میں امریکہ کے مہنگے ترین اور دور جدید کے لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا ہے تو امریکہ سمیت ان تمام ممالک کے لیے یہ ایک بری خبر ہے، جو کہ ایک اس فائٹر جیٹ پروگرام میں شراکت دار ہیں،ان ممالک میں پاکستان کا برادر ملک ترکی بھی شامل ہے۔

مگر ایسا بھی ممکن ہے کہ دوران پرواز اکثر طیاروں سے پرندے ٹکرا جاتے ہیں، جس کے بعد طیارہ تباہ بھی ہو سکتا ہے اور ایسا کئی بار ہو چکا ہے۔

یاد رہے روسی ساختہ طیارہ شکن میزائل سسٹم کی بہت مانگ ہے، روس ایسے طیارہ شکن نظام بنا چکا ہے جن کا کوئی ثانی نہیں، روس کا بنایا ہوا “S-400” ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم بہت جدید ٹیکنالوجی کا حامل ہے اور روس کا یہ دعویٰ ہے کہ اس میزائل سسٹم کے آگے نہ صرف کروز میزائل بلکہ دُنیا کا ہر لڑاکا طیارہ بھی بے بس ہے،روس کا یہ دعویٰ اپنی جگہ مگر دنیا کے کئی ممالک اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ ائر ڈیفنس میزائل سسٹم بہت جدید ٹیکنالوجی کا حامل ہے جو کہ نہ صرف میزائلوں کو فضا میں تباہ کر سکتا ہے بلکہ لڑاکا طیاروں کیلئے بھی بہت بڑا خطرہ ہے۔

ادھر روس “S-400” سے بھی زیادہ جدید ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم “S-500” بنا چکا ہے.

Facebook Comments
Share This

About yasir

Check Also

بھارت کی خفیہ جنگی تیاری یا پھرخوف کا سدباب

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے یہ خبر دی ہے کہ بھارت بڑی تعداد میں …

error: Content is protected !!